ہیرا لال فلک دہلوی
لوگ اندازہ لگائیں گے عمل سے میرے
لوگ اندازہ لگائیں گے عمل سے میرے میں ہوں کیسا مرے ماتھے پہ یہ تحریر نہیں ہیرا لال فلک دہلوی
یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی
یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی ہیرا لال فلک دہلوی
وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوں_
وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوں تھک تھک گئی نگاہ تماشے نہ کم ہوئے ہیرا لال فلک دہلوی
مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد
مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی ہیرا لال فلک دہلوی
اطلاعیه برای شاعران و نویسندگان
پایگاه اینترنتی شعرستان از همکاری همه شاعران و نویسندگان آماتور و حرفه ای از سراسر جهان استقبال میکند و مشارکت فعال آنها را خیر مقدم میگوید. شما میتوانید اشعار، مطالب معلوماتی و مقالات خویش را از طریق ایمیل و یا فرم تماس ارسال نماید. مطالب ارسالی در اولین فرصت مناسب منتشر خواهند شد