وقار خان
میرے اپنوں کو مرے سامنے
میرے اپنوں کو مرے سامنے مارا تُو نے پل صراط ایسا ہی ہے جس سے گزارا تُو نے؟ تیرے سینے پہ اُترتا تو کوئی بات…
ہے میرے صبر کی راہوں کا
ہے میرے صبر کی راہوں کا امتحاں خواہش مرا یقین ہے خواہش، مرا گماں خواہش تمہارے ہجر کی آتش میں جسم جلتا ہے خیالِ وصل…
ایک اچھا ہے ، اک بُرا
ایک اچھا ہے ، اک بُرا ساتھی چاہیے تجھ کو کون سا ساتھی؟ وہ بھی تنہا تھا‘ اس لئے اُس نے آدمی کو بنا لیا…
دل سے اپنے خدا کی نہ کی
دل سے اپنے خدا کی نہ کی بندگی احتراماً ہی تھامے رکھی بندگی میری نظریں نہ انسانیت پر پڑیں میں نے آنکھوں پہ باندھے رکھی…
عیب
عیب یہ ایک لفظ ’’ بُرا‘‘ جو کہ ایک لفظ ہے بس تو کیا برائی ہے، اس لفظ کا قصور ہے کیا تو کیا یہ…
میرے ہونٹوں کا ابھی زہر
میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے تُو اگر بچھڑا تو کیا چین سے رہ پائے گا؟ اے سخن فہم! مرے شعر سے…
وقت ایسا بھی مجھ پہ آئے
وقت ایسا بھی مجھ پہ آئے گا؟ یہ زمانہ مجھے سکھائے گا؟ تجھ کو تو اپنی بھی نہیں پہچان تُو مجھے خاک جان پائے گا…
اے غمِ دل کی دوا‘ دیر نہ
اے غمِ دل کی دوا‘ دیر نہ کر آ مجھے زہر پلا‘ دیر نہ کر تُو بھی اب دیر نہ کر شیریں بدن کر دے…
دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے
دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ اتنی اچھی نہیں وفا مرے ساتھ یار‘ جو مجھ پہ جان وارتے تھے کیا کوئی واقعی مَرا، مرے…
صدقۂ آلِ عبا فُزْتُ
صدقۂ آلِ عبا فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ میں جہاں جا کے لڑا‘ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَہ اہلِ شمشیر ابھی منتظرِ فیصلہ تھے بول اُٹھا شیرِ خدا‘ فُزْتُ…
میں خاک زاد! ترے نام پر
میں خاک زاد! ترے نام پر فدا ہو کر فلک نشین چلا تیری خاکِ پا ہو کر کسی کو چین نہیں تاج و تخت کے…
وقت کی دھوپ میں سڑا ہوں
وقت کی دھوپ میں سڑا ہوں میں اپنے قدموں پہ تب کھڑا ہوں میں میری حالت سے صاف لگتا ہے زندگی سے بہت لڑا ہوں…
اے آسمان! ترے اُس طرف
اے آسمان! ترے اُس طرف خدا ہے کیا؟ اُدھر ہی یار ہے میرا‘ ذرا بتا ___ ہے کیا؟ تمہاری آنکھوں میں لالی دکھائی دیتی ہے…
دنیا میں جتنے لوگ ہوئے
دنیا میں جتنے لوگ ہوئے مبتلائے عشق ہر ایک کو ہی کرب کی سُولی چڑھائے عشق جس جس نے تیرے عنبریں پیکر پہ جان دی…
فریبِ شوق تری ذات کو
فریبِ شوق تری ذات کو ثبات کہاں اب اُس کے بعد بھلا اور خواہشات کہاں میں ایک وہم کی پرچھائیں‘ تُو خدائے جہاں مری بساط…
مرا آگے بڑھنے کا شوق
مرا آگے بڑھنے کا شوق بھی‘ مرا حوصلہ بھی فریب تھا مجھے منزلوں کا گمان کیا‘ مرا راستہ بھی فریب تھا ہم اندھیر نگری کے…
وہ میرا یار ہے پر میری
وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے وہ درد دیتا ہے پر درد بانٹتا نہیں ہے یا اُس کو میری زباں کی سمجھ…
پل بھر کی وصل رات سے
پل بھر کی وصل رات سے نکلے نہیں ہیں ہم اُن کی نوازشات سے نکلے نہیں ہیں ہم کیونکر بُجھا دیا گیا ہے آفتاب کو…
خطا قبول نہیں ہے تو خود
خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ یہ میرا صبر ہے‘ یہ مجھ پِسے…
کب تلک دھوپ نہیں نکلے گی
کب تلک دھوپ نہیں نکلے گی بینائی کی دھند ظلمت کی زمانے سے ٹلے گی کب تک کیا یونہی وقت ارادوں میں گزر جائے گا…
میں خاندان سے بس ایک ہی
میں خاندان سے بس ایک ہی گلہ ہے مجھے یہ درد بانٹنا ورثے میں کیوں ملا ہے مجھے میں اُس کے پیار کو جھٹلا ہی…
وہ عورت تھی
وہ عورت تھی ________ خلا کی مشکلات اپنی جگہ قائم تھیں اور دنیا اُجڑتی، بھُربھری، بنجر زمینوں کی نشانی تھی ستارے سرخ تھے اور چاند…
بددماغی مری کیا شے ہے‘
بددماغی مری کیا شے ہے‘ ابھی یہ جانو! مجھے اپنانے کی جلدی میں دغا کھا جاؤ گے میں جہنم میں ہوا اور بلایا جو تمہیں…
ذات کا جو سفر کرے تو کرے
ذات کا جو سفر کرے تو کرے اپنے قدموں کو پَر کرے تو کرے میرے الفاظ‘ سب ہی ضائع گئے اب مرا خوں اثر کرے…
کبھی تو نام کبھی انتساب
کبھی تو نام کبھی انتساب دیکھتے ہیں ہم اپنے ہاتھ میں اپنی کتاب دیکھتے ہیں میں نا سمجھ ہوں مجھے صرف اتنا پوچھنا ہے تو…
مرا شعور ہوس، میرا
مرا شعور ہوس، میرا لاشعور ہوس وصالِ یار ہوس، وصل کا سُرور ہوس مرا مجاز ہوس، میرا لا مجاز ہوس یہ جلوہ ہائے نُما‘ جلوہ…
یہ مانتا ہوں کہ سَو بار
یہ مانتا ہوں کہ سَو بار جھوٹ کہتا ہے مگر یہ سچ ہے وہ تم سے ہی پیار کرتا ہے ارے وہ ہو گا منافق…
جاری ہے نالہ و فغاں ہائے
جاری ہے نالہ و فغاں ہائے از زمیں تا بہ آسماں‘ ہائے وہ جہاں محفلیں سجا کرتیں اُٹھ رہا ہے وہاں دھواں‘ ہائے ہائے وہ…
زخم کھاتے ہیں‘ جی جلاتے
زخم کھاتے ہیں‘ جی جلاتے ہیں ہم کہاں ایسے باز آتے ہیں زندگی روز گھٹتی جاتی ہے مسئلے روز بڑھتے جاتے ہیں اب کہاں بھوت…
کچھ پرستار ترے سینے سے
کچھ پرستار ترے سینے سے لگنے کے لئے کب سے بیتاب کھڑے ہیں ترے گھر کے باہر خود پسندی نے مجھے خود سے نکلنے نہ…