میر تقی میر
گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا
گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا پھرا تھا دور…
گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا
گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا آہ جو نکلی…
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں…
گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم
گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم کام کیا آتے ہیں گے معلومات یہ تو سمجھے ہی نہ کہ…
کیوں گردن ہلال ابھی سے ڈھلک چلی
کیوں گردن ہلال ابھی سے ڈھلک چلی ابرو تو یک طرف پلک اس کی نہیں ہلی ہمت دے بادتند کو ایسی کہ بعد مرگ مشت…
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح جوں سبزہ چل چمن میں لب…
کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر
کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر غیروں کی بے دماغی بیتابی چھاتی داغی یہ…
کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا
کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا کیونکر میں فتح پاؤں تری زلفوں پر کہ اب…
کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں
کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں داغ ہوں کیونکر…
کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا
کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا اٹھتے پلکوں کے گرے پڑتے ہیں…
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ مگر آئے تھے میہمان سے لوگ قہر ہے بات بات پر گالی جاں بہ لب ہیں تری زبان…
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو جب تلک دوری…
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا…
کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے
کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے دم میں دم جب تلک تھا سوچ رہا سانس کے ساتھ…
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں کشتۂ انداز کس کا تھا نہ…
خندۂ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
خندۂ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا کیا گذر کوئے محبت میں ہنسی ہے…
کس کو دل سا مکان دیتے ہیں
کس کو دل سا مکان دیتے ہیں اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں کیونکے خوش خواں نہ ہوویں اہل چمن ہم انھوں کو زبان…
کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کرو گے تو کیا کرو گے
کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کرو گے تو کیا کرو گے الم جو یہ ہے تو دردمندو کہاں تلک تم دوا کرو گے…
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا جی تو ایسے کئی صدقے کیے…
کب دسترس ہے لعل کو تیرے سخن تلک
کب دسترس ہے لعل کو تیرے سخن تلک رسوائیاں گئی ہیں عقیق یمن تلک آزادگی یہ چھوڑ قفس ہم نہ جاسکے حسن سلوک ضعف سے…
ک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے
ک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے ہر نالے سے اپنے دل خراشی کرتے آتے جو کبھو ادھر کو سنتے اس کو ہم گریے…
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں…
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے اس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے باغ کو…
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا ان نے تو مجھ کو جھوٹے…
عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو
عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو تنک شراب ضعیف الدماغ ہوں ساقی دم سحر مئے…
عشق میں غم نہ چشم تر ہے بس
عشق میں غم نہ چشم تر ہے بس نہ یہی خوں دل و جگر ہے بس رہ گئے منھ نہوں سے نوچ کے ہم گر…
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ…
عز و وقار کیا ہے کسو خود نما کے ہاتھ
عز و وقار کیا ہے کسو خود نما کے ہاتھ ہے آبرو فقیر کی شاہ ولا کے ہاتھ بٹھلا دیا فلک نے ہمیں نقش پا…
عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا
عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا مدت ہوئی الفت گئی…
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے مارا ہے کس کو ظالم اس…
صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس
صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس دنیا طلبی نفس نہ کر شومی سے جوں…
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا متوکل ہو کر خدا…
شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم
شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم کیا…
سوز دروں سے مجھ پہ ستم برملا ہوا
سوز دروں سے مجھ پہ ستم برملا ہوا ٹکڑا جگر کا آنکھوں سے نکلا جلا ہوا بدحال ہوکے چاہ میں مرنے کا لطف کیا دل…
سن کے صفت ہم سے خرابات کی
سن کے صفت ہم سے خرابات کی عقل گئی زاہد بدذات کی جی میں ہمارے بھی تھا پیویں شراب پیرمغاں تو نے کرامات کی کوئی…
سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں
سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں…
سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع
سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع “246”,”واہ وا رے…
زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو
زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو کیا آنکھ بند کر کے مراقب ہوئے ہو تم…
رہے ہے غش و درد دو دو پہر تک
رہے ہے غش و درد دو دو پہر تک سر زخم پہنچا ہے شاید جگر تک ہوئے ہیں حواس اور ہوش و خرد گم خبر…
رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ
رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ مظاہر سب اس کے ہیں ظاہر ہے وہ تکلف ہے…
رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا
رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا اے طپش لوہو پیے میرا جو تو جھوٹ کہے…
ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلا کے نہ…
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا یا محبت کہہ کے یہ بار گراں میں لے گیا خاک و خوں میں…
دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے
دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے پہنچا ہوں…
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی وا شد کچھ آگے آہ سے…
دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت
دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت راہ…
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے ٹک آپ بھی تو آیئے یاں زور باؤ ہے اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ…