لٹ گئی اس کو دیکھ گل کی فصل

لٹ گئی اس کو دیکھ گل کی فصل سارے گلبن تھے تو کہے بے اصل

ادامه مطلب

گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا

گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا پھرا تھا دور…

ادامه مطلب

گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا

گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا آہ جو نکلی…

ادامه مطلب

گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے

گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں…

ادامه مطلب

گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم

گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم کام کیا آتے ہیں گے معلومات یہ تو سمجھے ہی نہ کہ…

ادامه مطلب

کیوں گردن ہلال ابھی سے ڈھلک چلی

کیوں گردن ہلال ابھی سے ڈھلک چلی ابرو تو یک طرف پلک اس کی نہیں ہلی ہمت دے بادتند کو ایسی کہ بعد مرگ مشت…

ادامه مطلب

کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح

کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح جوں سبزہ چل چمن میں لب…

ادامه مطلب

کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر

کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر غیروں کی بے دماغی بیتابی چھاتی داغی یہ…

ادامه مطلب

کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا

کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا کیونکر میں فتح پاؤں تری زلفوں پر کہ اب…

ادامه مطلب

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں داغ ہوں کیونکر…

ادامه مطلب

کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا

کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا اٹھتے پلکوں کے گرے پڑتے ہیں…

ادامه مطلب

کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ

کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ مگر آئے تھے میہمان سے لوگ قہر ہے بات بات پر گالی جاں بہ لب ہیں تری زبان…

ادامه مطلب

کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے

کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو جب تلک دوری…

ادامه مطلب

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا…

ادامه مطلب

کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے

کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے دم میں دم جب تلک تھا سوچ رہا سانس کے ساتھ…

ادامه مطلب

کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں

کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں کشتۂ انداز کس کا تھا نہ…

ادامه مطلب

خندۂ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا

خندۂ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا کیا گذر کوئے محبت میں ہنسی ہے…

ادامه مطلب

کس کو دل سا مکان دیتے ہیں

کس کو دل سا مکان دیتے ہیں اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں کیونکے خوش خواں نہ ہوویں اہل چمن ہم انھوں کو زبان…

ادامه مطلب

کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کرو گے تو کیا کرو گے

کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کرو گے تو کیا کرو گے الم جو یہ ہے تو دردمندو کہاں تلک تم دوا کرو گے…

ادامه مطلب

کر نظر اک دور سے مجھ داغ میں

کر نظر اک دور سے مجھ داغ میں آنکھیں نیچی کر گیا گل باغ میں

ادامه مطلب

کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا

کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا جی تو ایسے کئی صدقے کیے…

ادامه مطلب

کب دسترس ہے لعل کو تیرے سخن تلک

کب دسترس ہے لعل کو تیرے سخن تلک رسوائیاں گئی ہیں عقیق یمن تلک آزادگی یہ چھوڑ قفس ہم نہ جاسکے حسن سلوک ضعف سے…

ادامه مطلب

ک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے

ک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے ہر نالے سے اپنے دل خراشی کرتے آتے جو کبھو ادھر کو سنتے اس کو ہم گریے…

ادامه مطلب

قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا

قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں…

ادامه مطلب

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے اس کتے نے کر کے دلیری صید حرم کو مارا ہے باغ کو…

ادامه مطلب

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا ان نے تو مجھ کو جھوٹے…

ادامه مطلب

عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو

عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو تنک شراب ضعیف الدماغ ہوں ساقی دم سحر مئے…

ادامه مطلب

عشق میں غم نہ چشم تر ہے بس

عشق میں غم نہ چشم تر ہے بس نہ یہی خوں دل و جگر ہے بس رہ گئے منھ نہوں سے نوچ کے ہم گر…

ادامه مطلب

عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا

عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ…

ادامه مطلب

عز و وقار کیا ہے کسو خود نما کے ہاتھ

عز و وقار کیا ہے کسو خود نما کے ہاتھ ہے آبرو فقیر کی شاہ ولا کے ہاتھ بٹھلا دیا فلک نے ہمیں نقش پا…

ادامه مطلب

عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا

عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا مدت ہوئی الفت گئی…

ادامه مطلب

طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے

طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے مارا ہے کس کو ظالم اس…

ادامه مطلب

صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس

صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس دنیا طلبی نفس نہ کر شومی سے جوں…

ادامه مطلب

شیخ سچ خوب ہے بہشت کا باغ

شیخ سچ خوب ہے بہشت کا باغ جائیں گے گر وفا کرے گا دماغ

ادامه مطلب

شعر دیواں کے میرے کر کر یاد

شعر دیواں کے میرے کر کر یاد مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا متوکل ہو کر خدا…

ادامه مطلب

شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم

شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم سب سے گلی کوچوں میں ملو ہو پھرتے رہو ہو گھر گھر تم کیا…

ادامه مطلب

سوز دروں سے مجھ پہ ستم برملا ہوا

سوز دروں سے مجھ پہ ستم برملا ہوا ٹکڑا جگر کا آنکھوں سے نکلا جلا ہوا بدحال ہوکے چاہ میں مرنے کا لطف کیا دل…

ادامه مطلب

سن کے صفت ہم سے خرابات کی

سن کے صفت ہم سے خرابات کی عقل گئی زاہد بدذات کی جی میں ہمارے بھی تھا پیویں شراب پیرمغاں تو نے کرامات کی کوئی…

ادامه مطلب

سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں

سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں…

ادامه مطلب

سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع

سب پہ روشن ہے کہ شب مجلس میں جب آتی ہے شمع اس بھبھوکے سے کو بیٹھا دیکھ جل جاتی ہے شمع “246”,”واہ وا رے…

ادامه مطلب

زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو

زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو کیا آنکھ بند کر کے مراقب ہوئے ہو تم…

ادامه مطلب

رہے ہے غش و درد دو دو پہر تک

رہے ہے غش و درد دو دو پہر تک سر زخم پہنچا ہے شاید جگر تک ہوئے ہیں حواس اور ہوش و خرد گم خبر…

ادامه مطلب

رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ

رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ مظاہر سب اس کے ہیں ظاہر ہے وہ تکلف ہے…

ادامه مطلب

رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا

رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا اے طپش لوہو پیے میرا جو تو جھوٹ کہے…

ادامه مطلب

ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا

ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلا کے نہ…

ادامه مطلب

دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا

دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا یا محبت کہہ کے یہ بار گراں میں لے گیا خاک و خوں میں…

ادامه مطلب

دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے

دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے پہنچا ہوں…

ادامه مطلب

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی وا شد کچھ آگے آہ سے…

ادامه مطلب

دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت

دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت راہ…

ادامه مطلب

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے ٹک آپ بھی تو آیئے یاں زور باؤ ہے اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ…

ادامه مطلب