بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے

بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے داغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دید کیا کیا لیے…

ادامه مطلب

بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آ چکے

بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آ چکے کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جا چکے تم یہی…

ادامه مطلب

بہار و باغ و گل و لالہ دلربا بن حیف

بہار و باغ و گل و لالہ دلربا بن حیف بھرے ہیں پھولوں سے جیب و کنار لیکن حیف

ادامه مطلب

بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی

بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی بزم میں سے اب تو چل اے رشک صبح شمع کے منھ پر پھری…

ادامه مطلب

برسوں تک جی کو مار مار رہے

برسوں تک جی کو مار مار رہے رات دن ہم امیدوار رہے موسم گل تلک رہے گا کون چبھتے ہی دل کو خار خار رہے…

ادامه مطلب

باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے

باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے جو بے کلی ہے ایسی چاہت…

ادامه مطلب

آئے تو ہو طبیباں تدبیر گر کرو تم

آئے تو ہو طبیباں تدبیر گر کرو تم ایسا نہ ہو کہ میرے جی کا ضرر کرو تم رنگ شکستہ میرا بے لطف بھی نہیں…

ادامه مطلب

آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب

آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کر لو شتاب اب بگڑا بنا ہوں عشق سے…

ادامه مطلب

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک

اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب…

ادامه مطلب

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد آوے گی بہت ہم بھی فقیروں کی صدا یاد ہر آن وہ انداز ہے جس میں…

ادامه مطلب

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا

آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا آ کر کھڑا ہوا تھا بہ…

ادامه مطلب

ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی

ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی ہاتھ دل پر زور…

ادامه مطلب

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ

اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ کبھو تو نیو چلا کر ستم…

ادامه مطلب

اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا

اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا…

ادامه مطلب

اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی

اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی یوں پھرتا ہوں دشت…

ادامه مطلب

اس سخن رس سے اگر شب کی ملاقات رہے

اس سخن رس سے اگر شب کی ملاقات رہے بات رہ جائے نہ یہ دن رہیں نے رات رہے فخر سے ہم تو کلہ اپنی…

ادامه مطلب

آرسی اس کے سامنے دھر لو

آرسی اس کے سامنے دھر لو کب ہے ویسی مواجہ کر لو اس کی تیغ ستم بلند ہوئی جی ہے مرنے کو تو چلو مر…

ادامه مطلب

آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ

آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ پایہ اس کی…

ادامه مطلب

آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا

آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا آنسو کی بوند آنکھوں…

ادامه مطلب

ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر

ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر رنگ ہوا سے ٹپکنے لگا…

ادامه مطلب

اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں

اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں اس بزم کے چراغ بجھے تھے جو یار…

ادامه مطلب

یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا

یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا کوئی عاشقوں بتاں کی کرے…

ادامه مطلب

یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا

یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا محشر سوائے کیا ہو اسے التیام میرؔ…

ادامه مطلب

یار ہم سے جدا ہوا افسوس

یار ہم سے جدا ہوا افسوس نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس جب تلک آن کر رہے مجھ پاس مجھ میں تب تک نہ…

ادامه مطلب

وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں

وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں سارے تیرا خیال رکھتے ہیں شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں مدتوں یاد سال رکھتے ہیں…

ادامه مطلب

وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے

وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر…

ادامه مطلب

وصل دلبر نہ ٹک ہوا قسمت

وصل دلبر نہ ٹک ہوا قسمت مر چلے ہجر میں ہی یا قسمت ایک بوسے پہ بھی نہ صلح ہوئی ہم نے دیکھی بہت لڑا…

ادامه مطلب

ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز

ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز کب تک کھنچے گی صبح قیامت کی شام کو…

ادامه مطلب

ہے تمنائے وصال اس کی مری جان کے ساتھ

ہے تمنائے وصال اس کی مری جان کے ساتھ جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی…

ادامه مطلب

ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے

ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے نہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے بہت دور کوئی رہا ہے مگر کہ فریاد میں ہے جرس…

ادامه مطلب

ہمارے آگے چمن سے گئی بہار دریغ

ہمارے آگے چمن سے گئی بہار دریغ دریغ و درد و صد افسوس صد ہزار دریغ

ادامه مطلب

ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا

ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا برقع اٹھے پہ اس…

ادامه مطلب

ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج

ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج عشق کے…

ادامه مطلب

ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری

ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری ہر شام نئی ایک مصیبت گذری پامال کدورت ہی رہا یاں دن رات یوں خاک میں ملتے مجھ…

ادامه مطلب

ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں

ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں کس قدر بیگانہ خو…

ادامه مطلب

نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو

نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو…

ادامه مطلب

نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے

نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے جہاں شطرنج…

ادامه مطلب

نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا

نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا شاعری تو شعار ہے اپنا بے خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا روتے پھرتے…

ادامه مطلب

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے اے حب جاہ والو جو…

ادامه مطلب

ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں

ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں سب ہیں…

ادامه مطلب

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق…

ادامه مطلب

موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے

موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ…

ادامه مطلب

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا اے ابر تر یہ گریہ ہمارا ہے…

ادامه مطلب

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار…

ادامه مطلب

مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے

مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل…

ادامه مطلب

مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور

مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور میں اور یار اور مرا کاروبار اور چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں…

ادامه مطلب

محبت کا جب روز بازار ہو گا

محبت کا جب روز بازار ہو گا بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن کبھی یہ…

ادامه مطلب

مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا

مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا تو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھنا آیا تو قمارخانۂ عشق میں تو سربازی ہے…

ادامه مطلب

لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع

لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی اگر…

ادامه مطلب

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں…

ادامه مطلب