میر تقی میر
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے داغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دید کیا کیا لیے…
بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آ چکے
بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آ چکے کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جا چکے تم یہی…
بہار و باغ و گل و لالہ دلربا بن حیف
بہار و باغ و گل و لالہ دلربا بن حیف بھرے ہیں پھولوں سے جیب و کنار لیکن حیف
بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی
بسکہ ہے گردون دوں پرور دنی ہووے پیوند زمیں یہ رفتنی بزم میں سے اب تو چل اے رشک صبح شمع کے منھ پر پھری…
برسوں تک جی کو مار مار رہے
برسوں تک جی کو مار مار رہے رات دن ہم امیدوار رہے موسم گل تلک رہے گا کون چبھتے ہی دل کو خار خار رہے…
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے جو بے کلی ہے ایسی چاہت…
آئے تو ہو طبیباں تدبیر گر کرو تم
آئے تو ہو طبیباں تدبیر گر کرو تم ایسا نہ ہو کہ میرے جی کا ضرر کرو تم رنگ شکستہ میرا بے لطف بھی نہیں…
آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب
آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کر لو شتاب اب بگڑا بنا ہوں عشق سے…
اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک
اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب…
آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد
آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد آوے گی بہت ہم بھی فقیروں کی صدا یاد ہر آن وہ انداز ہے جس میں…
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا آ کر کھڑا ہوا تھا بہ…
ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی
ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی ہاتھ دل پر زور…
اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ
اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ کبھو تو نیو چلا کر ستم…
اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا
اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا…
اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی
اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی یوں پھرتا ہوں دشت…
اس سخن رس سے اگر شب کی ملاقات رہے
اس سخن رس سے اگر شب کی ملاقات رہے بات رہ جائے نہ یہ دن رہیں نے رات رہے فخر سے ہم تو کلہ اپنی…
آرسی اس کے سامنے دھر لو
آرسی اس کے سامنے دھر لو کب ہے ویسی مواجہ کر لو اس کی تیغ ستم بلند ہوئی جی ہے مرنے کو تو چلو مر…
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ پایہ اس کی…
آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا
آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا آنسو کی بوند آنکھوں…
ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر
ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر رنگ ہوا سے ٹپکنے لگا…
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں اس بزم کے چراغ بجھے تھے جو یار…
یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا
یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا کوئی عاشقوں بتاں کی کرے…
یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا
یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا محشر سوائے کیا ہو اسے التیام میرؔ…
یار ہم سے جدا ہوا افسوس
یار ہم سے جدا ہوا افسوس نہ جدا ہو کے پھر ملا افسوس جب تلک آن کر رہے مجھ پاس مجھ میں تب تک نہ…
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں سارے تیرا خیال رکھتے ہیں شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں مدتوں یاد سال رکھتے ہیں…
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر…
وصل دلبر نہ ٹک ہوا قسمت
وصل دلبر نہ ٹک ہوا قسمت مر چلے ہجر میں ہی یا قسمت ایک بوسے پہ بھی نہ صلح ہوئی ہم نے دیکھی بہت لڑا…
ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز
ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز کب تک کھنچے گی صبح قیامت کی شام کو…
ہے تمنائے وصال اس کی مری جان کے ساتھ
ہے تمنائے وصال اس کی مری جان کے ساتھ جان ہی جائے گی آخر کو اس ارمان کے ساتھ کیا فقط توڑ کے چھاتی ہی…
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے نہ نکلا کبھو عہدۂ مور سے بہت دور کوئی رہا ہے مگر کہ فریاد میں ہے جرس…
ہمارے آگے چمن سے گئی بہار دریغ
ہمارے آگے چمن سے گئی بہار دریغ دریغ و درد و صد افسوس صد ہزار دریغ
ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا
ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا برقع اٹھے پہ اس…
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج عشق کے…
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری ہر شام نئی ایک مصیبت گذری پامال کدورت ہی رہا یاں دن رات یوں خاک میں ملتے مجھ…
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں کس قدر بیگانہ خو…
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو…
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے جہاں شطرنج…
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا شاعری تو شعار ہے اپنا بے خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا روتے پھرتے…
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے اے حب جاہ والو جو…
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں سب ہیں…
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق…
موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے
موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ…
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا اے ابر تر یہ گریہ ہمارا ہے…
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار…
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل…
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور میں اور یار اور مرا کاروبار اور چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں…
محبت کا جب روز بازار ہو گا
محبت کا جب روز بازار ہو گا بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن کبھی یہ…
مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا
مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا تو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھنا آیا تو قمارخانۂ عشق میں تو سربازی ہے…
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی اگر…
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں…