میر تقی میر
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج عشق کے…
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری ہر شام نئی ایک مصیبت گذری پامال کدورت ہی رہا یاں دن رات یوں خاک میں ملتے مجھ…
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں کس قدر بیگانہ خو…
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو…
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے جہاں شطرنج…
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا شاعری تو شعار ہے اپنا بے خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا روتے پھرتے…
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے اے حب جاہ والو جو…
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں سب ہیں…
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق…
موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے
موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ…
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا اے ابر تر یہ گریہ ہمارا ہے…
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار…
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل…
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور میں اور یار اور مرا کاروبار اور چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں…
محبت کا جب روز بازار ہو گا
محبت کا جب روز بازار ہو گا بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن کبھی یہ…
مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا
مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا تو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھنا آیا تو قمارخانۂ عشق میں تو سربازی ہے…
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی اگر…
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں…
گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی
گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی تھا دل جو پکا پھوڑا بسیاری الم…
گل و بلبل بہار میں دیکھا
گل و بلبل بہار میں دیکھا ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا جیسا…
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی…
گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے جیتے رہیں گے کیونکر ہم…
کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو
کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ…
کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک
کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک تھے نوخطوں کی خاک سے اجزا جو…
کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے
کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے عشق…
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب یہ شاخچہ بندی…
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں…
کیا عشق بے محابا ستھراؤ کر رہا ہے
کیا عشق بے محابا ستھراؤ کر رہا ہے میداں بزن گہوں کے کشتوں سے بھر رہا ہے غیرت سے دلبری کی ڈر چاندنی نہ دیکھی…
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو دینا تھا تنک رحم بھی بیداد گروں کو آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش…
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس بوئے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی…
کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں
کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں عشق آتش بھی جو دیوے تو نہ…
کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ
کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ سعی اتنی یہ ضروری ہے اٹھے بزم سلگ اے جگر…
کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم
کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم شکیبائی کہاں جو اب…
خندہ بجائے گریہ و اندوہ و آہ کر
خندہ بجائے گریہ و اندوہ و آہ کر ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج…
کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب
کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب تو کہاں اس کی کمر کیدھر…
کرو تم یاد گر ہم کو رہے تم میں بھی اکثر دل
کرو تم یاد گر ہم کو رہے تم میں بھی اکثر دل مثل مشہور ہے یہ تو کہ ہے دنیا میں دلبر دل بھلا تم…
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ حرف زن مت ہو…
کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا
کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا آٹھ پہر رہتا ہے رونا اس کی دوری کے غم کا روتے کڑھتے خاک میں…
کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا
کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا شکل تصویر بے خودی کب تک کسو دن آپ میں بھی…
کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں
کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں ایک رہتا ایک کھوتے عشق میں پاس ظاہر ٹک نہ کرتے شب تو ہم بھر رہے تھے خوب…
فلک کرنے کے قابل آسماں ہے
فلک کرنے کے قابل آسماں ہے کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گرد ہماری خاک کیا جانیں کہاں…
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دل کے جانے کا نہایت غم رہا حسن تھا تیرا بہت عالم فریب خط کے آنے…
عمر گذری کہ ترے کوچے کے آنے سے گئے
عمر گذری کہ ترے کوچے کے آنے سے گئے دور سے ایک نظر دیکھ کے جانے سے گئے
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا…
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع کب تلک ان بتوں سے چشم رہے ہو رہے گا…
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک حال میرا شہر میں کہتے رہیں…
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم…
طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ
طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ مرغان باغ سارے گویا ہیں اس کے مارے
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ تھا میرؔ بے دماغ کو بھی کیا بلا دماغ باتیں کرے برشتگی دل کی پر…