ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج

ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج عشق کے…

ادامه مطلب

ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری

ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری ہر شام نئی ایک مصیبت گذری پامال کدورت ہی رہا یاں دن رات یوں خاک میں ملتے مجھ…

ادامه مطلب

ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں

ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں کس قدر بیگانہ خو…

ادامه مطلب

نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو

نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو…

ادامه مطلب

نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے

نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے جہاں شطرنج…

ادامه مطلب

نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا

نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا شاعری تو شعار ہے اپنا بے خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا روتے پھرتے…

ادامه مطلب

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے اے حب جاہ والو جو…

ادامه مطلب

ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں

ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں سب ہیں…

ادامه مطلب

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق…

ادامه مطلب

موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے

موسم ہے نکلے شاخوں سے پتے ہرے ہرے پودے چمن میں پھولوں سے دیکھے بھرے بھرے آگے کسو کے کیا کریں دست طمع دراز وہ…

ادامه مطلب

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا

منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا پردہ رہا ہے کون سا ہم سے حجاب کیا اے ابر تر یہ گریہ ہمارا ہے…

ادامه مطلب

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں

معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار…

ادامه مطلب

مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے

مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل…

ادامه مطلب

مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور

مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور میں اور یار اور مرا کاروبار اور چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں…

ادامه مطلب

محبت کا جب روز بازار ہو گا

محبت کا جب روز بازار ہو گا بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن کبھی یہ…

ادامه مطلب

مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا

مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا تو داؤ نہ یاں بہت سا جل کر رکھنا آیا تو قمارخانۂ عشق میں تو سربازی ہے…

ادامه مطلب

لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع

لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی اگر…

ادامه مطلب

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں…

ادامه مطلب

گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی

گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی تھا دل جو پکا پھوڑا بسیاری الم…

ادامه مطلب

گل و بلبل بہار میں دیکھا

گل و بلبل بہار میں دیکھا ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا جیسا…

ادامه مطلب

گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا

گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی…

ادامه مطلب

گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے

گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے جیتے رہیں گے کیونکر ہم…

ادامه مطلب

کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو

کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ…

ادامه مطلب

کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک

کیا ہم میں رہا گردش افلاک سے اب تک پھرتے ہیں کمھاروں کے پڑے چاک سے اب تک تھے نوخطوں کی خاک سے اجزا جو…

ادامه مطلب

کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے

کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے عشق…

ادامه مطلب

کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے

کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب یہ شاخچہ بندی…

ادامه مطلب

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں…

ادامه مطلب

کیا عشق بے محابا ستھراؤ کر رہا ہے

کیا عشق بے محابا ستھراؤ کر رہا ہے میداں بزن گہوں کے کشتوں سے بھر رہا ہے غیرت سے دلبری کی ڈر چاندنی نہ دیکھی…

ادامه مطلب

کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو

کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو دینا تھا تنک رحم بھی بیداد گروں کو آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش…

ادامه مطلب

کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس

کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس بوئے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی…

ادامه مطلب

کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں

کہیو قاصد جو وہ پوچھے ہمیں کیا کرتے ہیں جان و ایمان و محبت کو دعا کرتے ہیں عشق آتش بھی جو دیوے تو نہ…

ادامه مطلب

کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ

کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ سعی اتنی یہ ضروری ہے اٹھے بزم سلگ اے جگر…

ادامه مطلب

کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم

کہا سنتے تو کاہے کو کسو سے دل لگاتے تم نہ جاتے اس طرف تو ہاتھ سے اپنے نہ جاتے تم شکیبائی کہاں جو اب…

ادامه مطلب

خندہ بجائے گریہ و اندوہ و آہ کر

خندہ بجائے گریہ و اندوہ و آہ کر ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج…

ادامه مطلب

کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب

کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب تو کہاں اس کی کمر کیدھر…

ادامه مطلب

کرو تم یاد گر ہم کو رہے تم میں بھی اکثر دل

کرو تم یاد گر ہم کو رہے تم میں بھی اکثر دل مثل مشہور ہے یہ تو کہ ہے دنیا میں دلبر دل بھلا تم…

ادامه مطلب

کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ

کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ حرف زن مت ہو…

ادامه مطلب

کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا

کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا آٹھ پہر رہتا ہے رونا اس کی دوری کے غم کا روتے کڑھتے خاک میں…

ادامه مطلب

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا شکل تصویر بے خودی کب تک کسو دن آپ میں بھی…

ادامه مطلب

کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں

کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں ایک رہتا ایک کھوتے عشق میں پاس ظاہر ٹک نہ کرتے شب تو ہم بھر رہے تھے خوب…

ادامه مطلب

فلک کرنے کے قابل آسماں ہے

فلک کرنے کے قابل آسماں ہے کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گرد ہماری خاک کیا جانیں کہاں…

ادامه مطلب

غیر مجھ کو جو کہتے ہیں محظوظ

غیر مجھ کو جو کہتے ہیں محظوظ تجھ سے ملتے ہیں رہتے ہیں محظوظ

ادامه مطلب

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دل کے جانے کا نہایت غم رہا حسن تھا تیرا بہت عالم فریب خط کے آنے…

ادامه مطلب

عمر گذری کہ ترے کوچے کے آنے سے گئے

عمر گذری کہ ترے کوچے کے آنے سے گئے دور سے ایک نظر دیکھ کے جانے سے گئے

ادامه مطلب

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا…

ادامه مطلب

عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع کب تلک ان بتوں سے چشم رہے ہو رہے گا…

ادامه مطلب

عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک

عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک حال میرا شہر میں کہتے رہیں…

ادامه مطلب

ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم

ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم…

ادامه مطلب

طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ

طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ مرغان باغ سارے گویا ہیں اس کے مارے

ادامه مطلب

صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ

صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ تھا میرؔ بے دماغ کو بھی کیا بلا دماغ باتیں کرے برشتگی دل کی پر…

ادامه مطلب