میر تقی میر
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں فریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان…
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس
کچھ انکھڑیاں ہی اس کی نہیں اک بلا کہ بس دل زینہار دیکھ خبردار بہت ہیں بیگانہ خو رقیب سے وسواس کچھ نہ کر فرماوے…
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز وہ مہ چار دہ اس شہر سے کب کا…
کافر بتوں سے مل کے مسلمان کیا رہے
کافر بتوں سے مل کے مسلمان کیا رہے ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے شمشیر اس کی حصہ برابر کرے ہے دو…
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آؤ جانے دو جان سلامت لے…
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہو کر اس روئے آتشیں سے برقع سرک…
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے بلا ہے اسے شوق تیر و کماں یہیں سے ہے پیدا ستم…
عہد جنوں ہے موسم گل کا اور شگوفہ لایا ہے
عہد جنوں ہے موسم گل کا اور شگوفہ لایا ہے ابر بہاری وادی سے اٹھ کر آبادی پر آیا ہے سن کر میرے شور شب…
عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل
عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل خون ہوا…
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک حال میرا شہر میں کہتے رہیں…
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم…
طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ
طائر فریب کتنا ہے وہ شکار پیشہ مرغان باغ سارے گویا ہیں اس کے مارے
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ تھا میرؔ بے دماغ کو بھی کیا بلا دماغ باتیں کرے برشتگی دل کی پر…
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور حال ہے اور قال ہے کچھ اور وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں دم میں عاشق کا…
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے ایک نبھنے کا…
شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا
شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا…
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں داغ جیسے چراغ جلتے ہیں اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں…
سن گوش دل سے اب تو سمجھ بے خبر کہیں
سن گوش دل سے اب تو سمجھ بے خبر کہیں مذکور ہو چکا ہے مرا حال ہر کہیں اب فائدہ سراغ سے بلبل کے باغباں…
سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ
سر تو بہت بکھیرا پر فائدہ کیا نہ الجھاؤ تھا جو اس کی زلفوں سے سو گیا نہ وے زلفیں عقدہ عقدہ ہیں آفت زمانہ…
سب آتش سو زندۂ دل سے ہے جگر آب
سب آتش سو زندۂ دل سے ہے جگر آب بے صرفہ کرے صرف نہ کیوں دیدۂ تر آب پھرتی ہے اڑی خاک بھی مشتاق کسو…
زرد ہیں چہرے سوکھ گئے ہیں یعنی ہیں بیمار بہت
زرد ہیں چہرے سوکھ گئے ہیں یعنی ہیں بیمار بہت عشق کی گرمی دل کو پہنچی کہتے ہی آزار بہت نالہ و زاری سے عاشق…
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں غم سے پانی ہوکے کب کا بہہ گیا میں ہوں کہاں دست و دامن جیب…
رہ جاؤں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
رہ جاؤں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر آؤ بھلا کبھو تو سو جاؤ زبان کر کہتے ہیں چلتے وقت ملاقات ہے ضرور…
رکھتا ہے میرے دل سے تمھارا غم اختلاط
رکھتا ہے میرے دل سے تمھارا غم اختلاط ہر لمحہ لحظہ آن و زماں ہر دم اختلاط ہم وے ملے ہی رہتے ہیں مردم کی…
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے کس کو کہتے…
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال دیکھے ہیں سوچ…
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا خانہ خراب ہو جیو آئینہ ساز کا ہوتا ہے کون دست بسر واں غرور سے گالی ہے…
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ…
دل ہے میری بغل میں صد پارہ
دل ہے میری بغل میں صد پارہ اور ہر پارہ اس کا آوارہ عرق شرم رو سے دلبر کے رفتہ ثابت گذشتہ سیارہ خواری عشق…
دل کے خوں ہونے کا غم کیا اب سے تھا
دل کے خوں ہونے کا غم کیا اب سے تھا سینہ کوبی سخت ماتم کب سے تھا اس کی مقتولی کا ہم کو رشک ہے…
دل کھو گیا ہوں میں یہیں دیوانہ پن کے بیچ
دل کھو گیا ہوں میں یہیں دیوانہ پن کے بیچ تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ کیا جانے دل میں چاؤ…
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا آنکھیں کفک…
دل جلتے کچھ بن نہیں آتی حال بگڑتے جاتے ہیں
دل جلتے کچھ بن نہیں آتی حال بگڑتے جاتے ہیں جیسے چراغ آخری شب ہم لوگ نبڑتے جاتے ہیں رنگ ثبات چمن کا اڑایا باد…
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا جاننا باطل کسو کو…
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے غفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارے آتے ہیں نظر جاتے یہ سارے اسباب سوجھے گی کبھو بھی…
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو
خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں پر…
آب حیواں نہیں گوارا ہم کو
آب حیواں نہیں گوارا ہم کو کس گھاٹ محبت نے اتارا ہم کو دریا دریا تھا شوق بوسہ لیکن جاں بخش لب یار نے مارا…
آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں…
حسن کیا جنس ہے جی اس پہ لگا بیٹھے ہیں
حسن کیا جنس ہے جی اس پہ لگا بیٹھے ہیں عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں ہم وے ہر چند کہ ہم خانہ…
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا دہر میں میں خاک بسر ہی رہا عمر کو اس…
چل قلم غم کی رقم کوئی حکایت کیجے
چل قلم غم کی رقم کوئی حکایت کیجے ہر سرحرف پہ فریاد نہایت کیجے گوکہ سر خاک قدم پر ترے لوٹے اس میں اپنا شیوہ…
چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا
چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا ساری ساری راتیں جاگے…
جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم
جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم پر تنگ آ گئے ہیں تمھارے ستم سے ہم اپنے خیال ہی میں گذرتی ہے…
جو ہوشیار ہو سو آج ہو شراب زدہ
جو ہوشیار ہو سو آج ہو شراب زدہ زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ بنے یہ کیونکے ملے تو ہی یا ہمیں سمجھیں…
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
جو اس شور سے میر روتا رہے گا تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں جسے ابر…
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی…
جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا
جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا نسبت بہت گناہوں کی میری طرف ہوئی نا کردہ…
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ بات امل کی چلی ہی جاتی ہے ہے مگر عوج…
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل اک آن میں بدلتی ہے صورت جہان کی…