میر تقی میر
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی
آخر ہماری خاک بھی برباد ہو گئی اس کی ہوا میں ہم پہ تو بیداد ہو گئی مدت ہوئی نہ خط ہے نہ پیغام ہے…
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل…
آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے
آتش کے شعلے سر سے ہمارے گذر گئے بس اے تب فراق کہ گرمی میں مر گئے منزل نہ کر جہاں کو کہ ہم نے…
اب ہوسناک ہی مردم ہیں ترے یاروں میں
اب ہوسناک ہی مردم ہیں ترے یاروں میں ہم جو عاشق ہیں سو ٹھہرے ہیں گنہگاروں میں کوچۂ یار تو ہے غیرت فردوس ولے آدمی…
اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار
اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار اب ورد وظائف سے کیا استغفار عقدے نہ کھلے دل کے بسان تسبیح اسماے الٰہی بھی…
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں عمر گذری پر نہ جانا میں کہ کیوں دل گیر ہوں اتنی باتیں مت بنا مجھ…
یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا
یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا مہکتا ہو نپٹ جو پھول سی دارو سے میخانا نہ وے زنجیر کے غل ہیں نہ…
یاری کیے کسو کا کاہے کو کام نکلا
یاری کیے کسو کا کاہے کو کام نکلا ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا ہنگامے سے جہاں میں ہم نے جنوں کیا ہے…
یار بن تلخ زندگانی تھی
یار بن تلخ زندگانی تھی دوستی مدعی جانی تھی سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو عمر برباد یوں ہی جانی تھی لطف پر…
وہ نہیں ملتا ایک کسو سے مرتے ہیں اودھر جاجا لوگ
وہ نہیں ملتا ایک کسو سے مرتے ہیں اودھر جاجا لوگ یعنی ضائع اپنے تئیں کرتے ہیں اس بن کیا کیا لوگ جیسے غم ہجراں…
وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا بلا سے آنکھ جو پڑتی ہے اس کی دس…
وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ
وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ جو کہوں میں کوئی ہے میرے بھی غمخواروں کے بیچ جمع خوباں میں مرا محبوب…
ہے زیر سخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
ہے زیر سخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق…
ہوں تو دریا پر کیا ترک خروش
ہوں تو دریا پر کیا ترک خروش دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش مست رہتے ہیں ہم اپنے حال میں عرض کریے حال…
ہنگام شرح غم جگر خامہ شق ہوا
ہنگام شرح غم جگر خامہ شق ہوا سوز دروں سے نامہ کباب ورق ہوا بندہ خدا ہے پھر تو اگر گذرے آپ سے مرتا ہے…
ہم نہ سمجھے رابطہ ان نو خطوں سے تھا غلط
ہم نہ سمجھے رابطہ ان نو خطوں سے تھا غلط ہوتے ہیں بر خود غلط یہ ہو گیا یہ کیا غلط کہتے ہو کیا کیا…
ہم رو رو کے درد دل دیوانـہ کہیں گے
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے سودائی و رسوا و شکستہ دل و خستہ…
ہم اس مرتبہ پھر بھی لشکر گئے
ہم اس مرتبہ پھر بھی لشکر گئے تعب ایسی گذری کہ مر مر گئے نظر اک سپاہی پسر سے لڑی قریب اس کے تلوار کر…
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا سبزان تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی اب…
ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا
ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا واں تعلل ہی تجھے کرتے گئے…
نہیں تبخال لعل دلربا میں
نہیں تبخال لعل دلربا میں گہر پہنچا بہم آب بقا میں غریبانہ کوئی شب روز کر یاں ہمیشہ کون رہتا ہے سرا میں اٹھاتے ہاتھ…
نہ پایا دل ہوا روز سیہ سے جس کا جا لٹ پٹ
نہ پایا دل ہوا روز سیہ سے جس کا جا لٹ پٹ کسو کی زلف ڈھونڈی مو بہ مو کا کل کو سب لٹ لٹ…
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی جو دیکھو مری گفتگو…
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آ گیا
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آ گیا دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آ گیا پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر…
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں لایا ہے مرا شوق مجھے پردے…
میرؔ کل صحبت میں اس کی حرف سرکر رہ گیا
میرؔ کل صحبت میں اس کی حرف سرکر رہ گیا پیش جاتے کچھ نہ دیکھی چشم تر کر رہ گیا خوبی اپنے طالع بد کی…
منھ دھوتے اس کے آتا تو ہے اکثر آفتاب
منھ دھوتے اس کے آتا تو ہے اکثر آفتاب کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب سر صدقے تیرے ہونے کی خاطر بہت ہے گرم مارا…
ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو
ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو گئے وے سابقے سارے…
مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے
مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے قرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے عریانی آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ کشتہ ہے ترا…
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے پھر…
مدت سے اب وہی ہے مرا ہم کنار دل
مدت سے اب وہی ہے مرا ہم کنار دل آزردہ دل ستم زدہ و بے قرار دل جو کہیے ہے فسردہ و مردہ ضعیف و…
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی بے قراری کو جانے تب کوئی ہاں خدا مغفرت کرے اس کو صبر مرحوم تھا عجب کوئی جان دے…
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق…
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو برات عاشقاں بر شاخ آہو گیا وہ ساتھ سوتے لے کے کروٹ لگا بستر سے پھر…
لا میری اور یارب آج ایک خوش کمر کو
لا میری اور یارب آج ایک خوش کمر کو قدرت سے اس کے دل کی کل پھیر دے ادھر کو بے طاقتی میں شب کی…
گھر سے لیے نکلتا ہے تلوار بے طرح
گھر سے لیے نکلتا ہے تلوار بے طرح اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح جی بچنے کی طرح نظر آتی نہیں کوئی…
گل کی جفا بھی جانی دیکھی وفائے بلبل
گل کی جفا بھی جانی دیکھی وفائے بلبل یک مشت پر پڑے ہیں گلشن میں جائے بلبل کر سیر جذب الفت گل چیں نے کل…
گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو
گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو خوب نہیں اے…
گذرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
گذرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں مرتا…
کیسی سعی حوادث نے کی آخرکار ہلاک کیا
کیسی سعی حوادث نے کی آخرکار ہلاک کیا کیا کیا چرخ نے چکر مارے پیس کے مجھ کو خاک کیا ایسا پلید آلودۂ دنیا خلق…
کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری
کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری جو اس بت سنگ دل سے کی تھی یاری بیمار بھلا کوئی بھی ہووے اس کا پرہیز کرے…
کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے
کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے کیسا کیسا ہمیں کھپایا تونے اول کے سلوک میں کہیں کا نہ رکھا آخر کو ٹھکانے ہی لگایا تونے
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں گوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتا آنسو…
کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں
کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں گل تو مجھ حیران کی خاطر بہت کرتا…
کیا صبر ہم نے جو اس کے ستم پر
کیا صبر ہم نے جو اس کے ستم پر ستم سا ستم ہو گیا اس میں ہم پر لکھا جو گیا اس کو کیا نقل…
کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا
کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا عجز کیا سو اس…
کوچے میں تیرے میرؔ کا مطلق اثر نہیں
کوچے میں تیرے میرؔ کا مطلق اثر نہیں کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں ہے عاشقی کے بیچ ستم دیکھنا ہی لطف مر…
کہو سو کریے علاج اپنا طپیدن دل بلائے جاں ہے
کہو سو کریے علاج اپنا طپیدن دل بلائے جاں ہے نہ شب کو مہلت نہ دن کو فرصت دمادم آنکھوں سے خوں رواں ہے تلاش…
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر وہ تنگ پوش…
کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یک جا نہ تھا شہرۂ عالم اسے یمن…