مدت ہوئی کہ تاب و تواں جی چھپا گئے

مدت ہوئی کہ تاب و تواں جی چھپا گئے بیتاب کر کے خاک میں ہم کو ملا گئے وے دن گئے کہ آٹھ پہر اس…

ادامه مطلب

مجھے تو درد سے اک انس ہے وفا کی قسم

مجھے تو درد سے اک انس ہے وفا کی قسم یہی سبب ہے جو کھائی ہے میں دوا کی قسم کل ان نے تیغ رکھی…

ادامه مطلب

مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے

مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے سختی بہت ہے پاس و مراعات عشق…

ادامه مطلب

لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے

لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے دل میں مسودے تھے بہت پر حضور یار…

ادامه مطلب

لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار

لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار ہوئیں کس ستم دیدہ کے پاس یک جا نگاہیں…

ادامه مطلب

گو ننگ اس کو آوے ہے عاشق کے نام سے

گو ننگ اس کو آوے ہے عاشق کے نام سے ہے میرؔ کام میرے تئیں اپنے کام سے درد صفر ہی خوب پئیں جس میں…

ادامه مطلب

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر…

ادامه مطلب

گرے بحر بلا مژگان تر سے

گرے بحر بلا مژگان تر سے نگاہیں اٹھ گئیں طوفان پر سے

ادامه مطلب

گر قصد ترک سر ہے کہو شرم مت کرو

گر قصد ترک سر ہے کہو شرم مت کرو کہتے ہیں اپنی ٹوپی سے بھی مشورت کرو اچھی ہے اس کی تیغ تو باندھو گلے…

ادامه مطلب

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں جو…

ادامه مطلب

کیا میں نے رو کر فشار گریباں

کیا میں نے رو کر فشار گریباں رگ ابر تھا تار تار گریباں کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگے کہ سینہ ہے قرب و جوار…

ادامه مطلب

کیا کیا عشق میں رنج اٹھائے دل اپنا سب خون ہوا

کیا کیا عشق میں رنج اٹھائے دل اپنا سب خون ہوا کیسے رکتے تھے خفگی سے آخرکار جنون ہوا تڑپا ہے پہلو میں اب جب…

ادامه مطلب

کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے

کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے دیکھا یہ بھی کہ سب کی نظروں سے گرے چپ ایسے ہیں گویا کہ نہیں منھ میں زباں…

ادامه مطلب

کیا کریں نیچی نظر کرنے سے غصہ کھائے وہ

کیا کریں نیچی نظر کرنے سے غصہ کھائے وہ اور مجلس میں جو رہیے دیکھ تو شرمائے وہ کس طرح تڑپے ہے کیا کیا جی…

ادامه مطلب

کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے

کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے اس مرے نوباوۂ گلزار خوبی کے حضور…

ادامه مطلب

کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع

کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع وہ منھ ٹک اودھر نہیں کرتا داغ ہے اس کے غرور سے شمع وہ بیٹھا…

ادامه مطلب

کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے

کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا موئے پر پرآتش…

ادامه مطلب

کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی

کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی تعارف کیا رہا اہل چمن سے ہوئی اک عمر…

ادامه مطلب

کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ

کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ اخلاص و ربط اس…

ادامه مطلب

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگہ الٰہی چشم یا…

ادامه مطلب

خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے

خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے اب نہ حسرت رہے گی مرنے تک موسم گل میں ہم…

ادامه مطلب

کس کنے جاؤں الٰہی کیا دوا پیدا کروں

کس کنے جاؤں الٰہی کیا دوا پیدا کروں دل تو کچھ دھنسکا ہی جاتا ہے کروں سو کیا کروں لوہو روتا ہوں میں ہر اک…

ادامه مطلب

کرنا شعار خوب ہے عجز و نیاز کو

کرنا شعار خوب ہے عجز و نیاز کو بے وقر جانتے ہیں دل بے گداز کو ہجراں کی سرگذشت مری گفتنی نہیں کیا کہیے تم…

ادامه مطلب

کرتا نہیں قصور ہمارے ہلاک میں

کرتا نہیں قصور ہمارے ہلاک میں یارب یہ آسمان بھی مل جائے خاک میں گرمی نہیں ہے ہم سے وہ اے رشک آفتاب اب آ…

ادامه مطلب

کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے

کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے جاتا ہے کوئی دشت عرب کو جو…

ادامه مطلب

کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ

کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ اس حور سے شبوں کا ملنا گیا…

ادامه مطلب

قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر

قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر نہ دیکھا آخر اس آئینہ رو نے نظر سے بھی نگاہ واپسیں…

ادامه مطلب

فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش

فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش ہے عجب طور کا سفر درپیش کس کی آنکھیں پھرے ہیں آنکھوں میں دم بہ دم ہے مری…

ادامه مطلب

غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے

غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے آنکھ ہر ایک کی دوڑے ہے…

ادامه مطلب

غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا

غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا زمیں اک صفحۂ…

ادامه مطلب

عشق وہ خانماں خراب ہے میاں

عشق وہ خانماں خراب ہے میاں جس سے دل آگ و چشم آب ہے میاں تن میں جب تک ہے جاں تکلف ہے ہم میں…

ادامه مطلب

عشق میں کھوئے جاؤ گے تو بات کی تہ بھی پاؤ گے

عشق میں کھوئے جاؤ گے تو بات کی تہ بھی پاؤ گے قدر ہماری کچھ جانو گے دل کو کہیں جو لگاؤ گے صبر کہاں…

ادامه مطلب

عشق سے ہم کو نگاہ نہیں کچھ ہائے زیان جاں کی طرف

عشق سے ہم کو نگاہ نہیں کچھ ہائے زیان جاں کی طرف ورنہ سبھی دیکھا کرتے ہیں اپنے سود و زیاں کی طرف ازبس مکروہات…

ادامه مطلب

عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی

عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی تگ ان پلکوں…

ادامه مطلب

ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو

ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو کرتی ہے عشق بازی کو بے مائگی وبال…

ادامه مطلب

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے کیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے جیب اور آستیں سے…

ادامه مطلب

صحرا میں سیل اشک مرا جا بجا پھرا

صحرا میں سیل اشک مرا جا بجا پھرا مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا طالع جو خوب تھے نہ ہوا جاہ کچھ…

ادامه مطلب

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے جان کو کوئی کھائے جاتا ہے ہر کوئی اس مقام میں دس روز اپنی نوبت بجائے جاتا ہے کھل…

ادامه مطلب

شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا میر تقی میر

شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید…

ادامه مطلب

شاعری شیوہ ہے شعار اخلاص

شاعری شیوہ ہے شعار اخلاص دین و مذہب مرا ہے پیار اخلاص اب کہاں وہ مؤدت قلبی ہووے ظاہر میں یوں ہزار اخلاص سورۃ اخلاص…

ادامه مطلب

سوائے سنگ دلی اور کچھ ہنر بھی ہے

سوائے سنگ دلی اور کچھ ہنر بھی ہے بتاں دلوں میں تمھارے خدا کا ڈر بھی ہے ترے فراق میں کچھ کھا کے سو رہا…

ادامه مطلب

سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں

سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں لاویں اسے بھی بعد مرے میری…

ادامه مطلب

سخت بے رحم آہ قاتل ہے

سخت بے رحم آہ قاتل ہے میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے دور مجنوں کا ہو گیا آخر یاں جنوں کا ابھی اوائل ہے…

ادامه مطلب

ساقی گھر چاروں اور آیا ہے

ساقی گھر چاروں اور آیا ہے دے بھی مے ابر زور آیا ہے ذوق تیرے وصال کا میرے ننگے سر تا بہ گور آیا ہے…

ادامه مطلب

زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں

زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں نہ کھول اے یار میرا گور میں منھ کہ حسرت ہے…

ادامه مطلب

رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے

رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے ہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے نہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہور…

ادامه مطلب

رنگ یہ ہے دیدۂ گریاں سے آج

رنگ یہ ہے دیدۂ گریاں سے آج لوہو ٹپکتا ہے گریباں سے آج سربہ فلک ہونے کو ہے کس کی خاک گرد یک اٹھتی ہے…

ادامه مطلب

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں شمع ہی سر نہ دے گئی برباد کشتہ اپنی زباں کے…

ادامه مطلب

راہ کی بات کہیں ہم کس سے بے تہ یاں اکثر ہیں لوگ

راہ کی بات کہیں ہم کس سے بے تہ یاں اکثر ہیں لوگ سرگرم بے راہ روی ہیں خود گم بے رہبر ہیں لوگ بدتر…

ادامه مطلب

دیکھیے کیا ہو سانجھ تلک احوال ہمارا ابتر ہے

دیکھیے کیا ہو سانجھ تلک احوال ہمارا ابتر ہے دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے خاطر اپنی اتنی پریشاں آنکھیں…

ادامه مطلب