اب یہ عالم ہے بس کہ میں

اب یہ عالم ہے بس کہ میں ان سے احتراماً گلہ نہیں کرتا زین شکیل

ادامه مطلب

اپنے آنسو رول رہا

اپنے آنسو رول رہا تھا وہ آنکھوں سے بول رہا تھا تیرے بعد مرے کمرے میں ماتم کا ماحول رہا تھا ہم ہی چلنے سے…

ادامه مطلب

آزاد غزلتری دید چھین

آزاد غزل تری دید چھین کے لے گئی ہے بصارتیں تجھے ڈھونڈنا تھا، چراغ ہاتھ سے گر گیا ترے بعد میرا نصیب ساتھ نہ دے…

ادامه مطلب

اس بار بھی میں وجہِ

اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا آخر دلِ تباہ دوبارہ سمجھ گیا کچھ وہ بھی اب مزید مسیحا نہیں رہا کچھ یوں ہوا…

ادامه مطلب

آسرادلے دی سوڑ

آسرا دلے دی سوڑ مُکاون دے لئی لوڑاں ہسدے مُکھ زین شکیل

ادامه مطلب

اِکلاپے دی شُوکرو رو

اِکلاپے دی شُوک رو رو بیت چلا جیون جان پھنسی کن بیروں میں زنجیریں ان پیروں میں سائیاں اب تو پاس بُلا عمر کٹی ہے…

ادامه مطلب

اور تم یاد آ گئے

’’اور تم یاد آ گئے پھر سے‘‘ ایک جنگل بھری اداسی کا میں نے کل رات خواب میں دیکھا اور تم یاد آ گئے پھر…

ادامه مطلب

ایک شعرتمہیں ملی ہے

ایک شعر تمہیں ملی ہے تو اے جان اس پہ شکر کرو یوں ہر کسی پہ اُداسی فدا نہیں ہوتی زین شکیل

ادامه مطلب

بابا ساغر صدیقی کے

بابا ساغر صدیقی کے نام بھولی ہوئی صدا ہے اسے یاد کیجیے جس جس سے وہ ملا ہے اسے یاد کیجیے ساغر جسے زمانے کی…

ادامه مطلب

بول پیا ہم جیون جیون

بول پیا ہم جیون جیون اجڑے کیوں؟ صندل! تیری ویرانی سلطانی ہے بول پیا یہ تنہائی کیا دھوکا ہے؟ صندل! یہ تو خود سے بھی…

ادامه مطلب

پھر تو پیڑوں سے بھی دو

پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے تو نے گر عہد مرے دوست بھلا دینے تھے آج ہی چاند نے بادل میں…

ادامه مطلب

تجھے اب تلک مری بے بسی

تجھے اب تلک مری بے بسی کا ملال ہے تجھے سچ کہوں مجھے اب بھی تیری ہی فکر ہے تری خامشی مری الجھنوں کو بڑھا…

ادامه مطلب

تم کو سب کچھ یاد ہی ہو

تم کو سب کچھ یاد ہی ہو گا یاد ہے اکثر تم کہتی تھیں جب میں اپنی سانسوں کی اور دھڑکن کی ترتیب لگاؤں کتنا…

ادامه مطلب

تنہائی کا وقت بِتانا

تنہائی کا وقت بِتانا مشکل ہے تم سے باتیں کرنا تو مجبوری ہے تم اندھوں کے شہر میں آنکھیں بیچو گے تم بھی بچوں جیسی…

ادامه مطلب

تُو مرے غم کو سمندر سے

تُو مرے غم کو سمندر سے بھی گہرا کہتا مان لیتا میں وہی تُو مجھے جیسا کہتا اتنی عجلت میں کوئی بات بنائی نہ گئی…

ادامه مطلب

جان تیری مرضی

جان تیری مرضی ہے چاہتوں کی باتوں کے دائمی حوالوں سے دیکھ لو نکل آئے جان ہم تری خاطر ہم تو اب نصیبوں کا بھی…

ادامه مطلب

جُنوں آسان ہوتا جا رہا

جُنوں آسان ہوتا جا رہا ہے یہ دل نادان ہوتا جا رہا ہے مری آنکھیں اگر خاموش ہیں تو وہ کیوں حیران ہوتا جا رہا…

ادامه مطلب

چار چھ اشک ہیں کرنے

چار، چھ اشک ہیں، کرنے ہیں تو منظور کرو! اب میں بیتابیءِ یعقوب ؑ کہاں سے لاؤں؟ زین شکیل

ادامه مطلب

چھپ کے رونا ترا چھپے

چھپ کے رونا ترا چھپے کیسے تُو نے ہر سمت ہی نمی کر دی میں جو اک بات کہنے والا تھا تُو نے وہ بات…

ادامه مطلب

خود کو میں توڑ کے پھر

خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟ یعنی اب میں نہ کوئی بات سناؤں؟ جاؤں؟ تم بھی پہلی سی توجہ نہیں دیتے…

ادامه مطلب

دکھ تماشا لگائے رکھتا

دکھ تماشا لگائے رکھتا ہے زندگی تالیاں بجاتی ہے آنکھ رہتی ہے بے وجہ پُرنم بے بسی روز مُسکراتی ہے زین شکیل

ادامه مطلب

دھڑکنوں کا سینے میں کب

دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے! غم کی سسکیاں لے کر بے کلی پکاری ہے، کتنی سوگواری ہے! جب…

ادامه مطلب

دین یہی ایمان یہی ہے

دین یہی، ایمان یہی ہے، دَھرم یہی ہے، زین! ”پیار“ کرو اور ”پیار“ کے اول آخر ”پیار“ کرو زین شکیل

ادامه مطلب

رو کے کچھ بھی اکھاڑ نا

رو کے کچھ بھی اکھاڑ نا پائے ہنس رہے ہیں یہ کیا کِیا ہم نے جب بہت تھک کے سو گئے تھے ہم پھر نصیبوں…

ادامه مطلب

ساری عمر ہی نفع کمایا

ساری عمر ہی نفع کمایا ہم نے عشق ادارے میں اب یہ سمجھے کاٹی ہم نے ساری عمر خسارے میں تم نے میری آنکھ بھی…

ادامه مطلب

سُن درد پیا ہمدرد پیا

سُن درد پیا، ہمدرد پیا سب لوگ یہاں بے درد پیا ہم آنکھیں بھی نا کھول سکیں یہاں ہر سُو غم کی گرد پیا یہ…

ادامه مطلب

صلہاب تلک جسے میں

صلہ اب تلک جسے میں نے آتی جاتی سانسوں سے بھی الگ نہیں مانا۔ آج چار لوگوں میں بیٹھ کر یہ کہتا ہے ’’لوگ بھول…

ادامه مطلب

عیدِ سعیدخوش ہے تمام

عیدِ سعید خوش ہے تمام دہر کہ نکلا ہلالِ عید اٹکا ہے کُنجِ لب پہ مرے پھر سوالِ عید خاموش ہو گیا مرا فریاد رَس…

ادامه مطلب

کتنا آسان تھا ہمیں

کتنا آسان تھا ہمیں جاناں پھر تجھی سی فریب کھا لینا زین شکیل

ادامه مطلب

کس نے آخر من کا دیپ

کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے سنّاٹا ہی کیوں آخر چِلّایا ہے تم بھی کیسی کیسی باتیں کرتے ہو کیسا کیسا تم نے…

ادامه مطلب

کہو تم کیا کرو گےکبھی

کہو تم کیا کرو گے کبھی جب شام ڈھلتے پکارو گے کسی کو کسی کا نام لو گے کوئی جب دور ہو گا تھکن سے…

ادامه مطلب

کیسا یہ امتحان ہے تم

کیسا یہ امتحان ہے، تم کیوں چلے گئے؟ اٹکی لبوں پہ جان ہے، تم کیوں چلے گئے؟ سوچوں نے آ لیا ہے مجھے اب تمہارے…

ادامه مطلب

مایوسی امید سے پہلے ہو

مایوسی امید سے پہلے ہو تو پھر باقی رستے خود ہی کٹتے رہتے ہیں تم کہتی ہو شہر میں جا کر بس جاؤں یعنی گونگا،…

ادامه مطلب

محبت کا تماشا دیکھتا

محبت کا تماشا دیکھتا ہے کہا بھی تھا زمانہ دیکھتا ہے تعلق پر بھی انگلی اٹھ گئی ناں! مجھے اب گھور کے کیا دیکھتا ہے؟…

ادامه مطلب

مرے بارے میں کچھ سوچا؟

مرے بارے میں کچھ سوچا؟ بتا ناں! ترا کیوں زرد ہے چہرہ؟ بتا ناں! ہوا سنتی ہے مجھ کو احتراماً تُو میری کیوں نہیں سنتا؟…

ادامه مطلب

ملو مجھ سے ملو مجھ

ملو مجھ سے ملو مجھ سے کہ ملنا ہے مجھے تم سے کسی شاداب نگری کےکسی برباد خطے کے بڑے ویران کونے میں کسی بے…

ادامه مطلب

میں بولا دکھ کی صورت

میں بولا دکھ کی صورت کیا؟ وہ بولی تم ملے مجھ کو میں بولا میں ملا تو تھا وہ بولی گُم ملے مجھ کو زین…

ادامه مطلب

میں نے یہ بھی کہا تو

میں نے یہ بھی کہا تو تھا تم سے میں نے یہ بھی کہا تو تھا تم سے گر اجالوں میں آنکھ لگ جائے پھر…

ادامه مطلب

نین پکاریں سانولرات

نین پکاریں سانول رات نہ بیتے بیرین یاد اداسی گھولے نین پکاریں سانول خواب سبھی چلائیں روٹھ گئیں تعبیریں نین پکاریں سانول ریت کا دریا…

ادامه مطلب

ہم بے بس ہم مجبور پیا

ہم بے بس، ہم مجبور پیا مت ہم سے ہونا دُور پیا ہم کرچی کرچی دل والے ہم ہو گئے چکنا چُور پیا اب کون…

ادامه مطلب

ہو کے ویران چلے آتے

ہو کے ویران چلے آتے ہیں ایسے بے جان چلے آتے ہیں تیرے کُوچے سے انہی پیروں پر ٹھیک ہے جان! چلے آتے ہیں! دل…

ادامه مطلب

وہ بولی دیکھ کیسے اڑ

وہ بولی دیکھ کیسے اڑ رہے ہیں بے کلی اوڑھے میں بولا ان پرندوں کو بھی شاید شام کا دکھ ہے وہ بولی کیوں زبانیں…

ادامه مطلب

وہ کہتی ہے باتیں کتنی

وہ کہتی ہے باتیں کتنی لمبی ہیں میں کہتا ہوںراتیں کتنی چھوٹی ہیں وہ کہتی ہے میں نے سپنے دیکھے ہیں میں کہتا ہوں سپنے،…

ادامه مطلب

وہی ہوا ناںجو تم نے

وہی ہوا ناں جو تم نے تھاما تھا ہاتھ میرا ہم ہی تم نے گرا دیا نا تمہیں کہا تھا کہ گرد آنکھوں میں پڑ…

ادامه مطلب

یہ کس نے ہنس کے سبھی

یہ کس نے ہنس کے سبھی زخم ہی مجھے دیے ہیں مرے خلوص کے کیسے مجھے صلے دیے ہیں جو تُو نہ آیا تو ہم…

ادامه مطلب

آبرودار دربدر

آبرودار دربدر، سائیں! ہے کٹھن ذیست کا سفر، سائیں! مر نہ جاؤں میں بے قضا پل میں تجھ سے ٹھہروں جو بے خبر سائیں! اشہبِ…

ادامه مطلب

آج پھر ہوش ٹھکانے لگے

آج پھر ہوش ٹھکانے لگے ہیں آپ کو دل سے بھلانے لگے ہیں ہم جسے سب کو بتاتے رہے تھے آپ وہ بات چھپانے لگے…

ادامه مطلب

آدھی خوشیاں آدھے

آدھی خوشیاں آدھے دکھ خوشیاں تھام بھلا دے دکھ بھولنے والے کیا جانیں دیتے ہیں جو وعدے دکھ میری جھولی ڈال گیا وہ بھی سیدھے…

ادامه مطلب

آزاد غزلیہاں ابتدا

آزاد غزل یہاں ابتدا سے بھی پیشتر کسی انتہا کا مقام ہے میں بکھر گیا کہیں ٹوٹ کر مری کرچیوں کو سمیٹ لے مری سانس…

ادامه مطلب

اس نے باتوں باتوں

اس نے باتوں باتوں میں تنہائی سے باتیں کیں سارے آنسو رو دینا ساون کی مجبوری تھی ایک سمندر گہرا سا آنکھوں میں بس جاتا…

ادامه مطلب