بیدل حیدری
دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا
دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا…
یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں
یہ جو چہروں پہ لئے گرد الم آتے ہیں یہ تمہارے ہی پشیمان کرم آتے ہیں اتنا کھل کر بھی نہ رو جسم کی بستی…
رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے
رہنے دے رتجگوں میں پریشاں مزید اسے لگنے دے ایک اور بھی ضرب شدید اسے جی ہاں وہ اک چراغ جو سورج تھا رات کا…
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے ان ہواؤں سے تو بارود کی بو آتی ہے ان…
اطلاعیه برای شاعران و نویسندگان
پایگاه اینترنتی شعرستان از همکاری همه شاعران و نویسندگان آماتور و حرفه ای از سراسر جهان استقبال میکند و مشارکت فعال آنها را خیر مقدم میگوید. شما میتوانید اشعار، مطالب معلوماتی و مقالات خویش را از طریق ایمیل و یا فرم تماس ارسال نماید. مطالب ارسالی در اولین فرصت مناسب منتشر خواهند شد