ہادی مچھلی شہری
اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا
اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا ہادی مچھلی شہری
وہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم
وہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم جواب میں فقط آنسو بہائے جاتے ہیں ہادی مچھلی شہری
میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کو
میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کو وہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیں خیال ہی ابھی آیا تھا…
اس نے اس انداز سے دیکھا مجھے
اس نے اس انداز سے دیکھا مجھے زندگی بھر کا گلہ جاتا رہا ہادی مچھلی شہری
اطلاعیه برای شاعران و نویسندگان
پایگاه اینترنتی شعرستان از همکاری همه شاعران و نویسندگان آماتور و حرفه ای از سراسر جهان استقبال میکند و مشارکت فعال آنها را خیر مقدم میگوید. شما میتوانید اشعار، مطالب معلوماتی و مقالات خویش را از طریق ایمیل و یا فرم تماس ارسال نماید. مطالب ارسالی در اولین فرصت مناسب منتشر خواهند شد