مخمور دہلوی
دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی
دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی اسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے…
تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی
تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگی جسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیں اس طرح فریاد کرنے کو کلیجہ چاہئے اب کوئی…
دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا
دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتا جہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتا مرے ٹوٹے ہوئے پائے طلب کا مجھ پہ احساں…
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں مخمور دہلوی
رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف
رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرف آنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرف ڈوبنے والے کی مایوسی پہ…
محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
محبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا مخمور دہلوی
ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے
ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہے خیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہے غم فراق میں دل کیوں نہ درد مند رہے بہار…
مقیم دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے
مقیم دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے یہ وہ آباد گھر ہے جس کی ویرانی نہیں جاتی مخمور دہلوی
یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے
یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے ترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں…
کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا
کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا یہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا محبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا…
خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا
خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا مجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا محبت جذبۂ ایثار سے پروان چڑھتی…
خود اپنے حال سے الجھے ہوئے ہیں تیرے دیوانے
خود اپنے حال سے الجھے ہوئے ہیں تیرے دیوانے ہنسے جائے زمانے کی ہنسی سے کچھ نہیں ہوتا مخمور دہلوی