فرحت عباس شاه
خودشناسی
خودشناسی اداس مت ہو دلِ مسافر اداس مت ہو ہوا اگرچہ پھوار دامن میں بھر کے لائی ہے بے کلی کی فضا اگرچہ کسی خموشی…
خواب دھڑکتے رہتے ہیں
خواب دھڑکتے رہتے ہیں وہموں کی آوازوں پر اب بھی دل کی گلیوں میں خواہش پھرتی رہتی ہے چاند تو خود دیوانہ ہے چاند ہمیں…
خدا کے بعد
خدا کے بعد سنگِ ویرانیءِ دل رنگِ آرائشِ جاں ہے اب تو اب تو احساس چمک اٹھتا ہے یک خدشہِ امکانِ بیابانی سے جذبہ ہائے…
حیاتی
حیاتی اَندروئی اندر بدّل وسّے چھَاں لگّے نہ دُھپ خوشیاں دے وچ کنڈے چُبھّے دُکھ ہَسّے، سُکھ چُپ فرحت عباس شاہ
حالات
حالات بڑی مشکل سے بہلائے گئے دکھوں کا کیا بھروسہ کسی بھی پل روح بے چین کر سکتے ہیں خراشوں سے اٹی ہوئی روح دراڑوں…
چلی آتی ہیں طیبہ سے ہوائیں یا رسول اللہ
چلی آتی ہیں طیبہ سے ہوائیں یا رسول اللہ ہوئیں مقبول میری بھی دعائیں یارسول اللہ خبر ہوگی کہ ہم بے چین کتنے ہیں زیارت…
چانن تے ہنیرا
چانن تے ہنیرا مینوں جگ لبھیا مینوں جگ لبھیا میں بیٹھا رب کھڑا میں بھُلیا وِچ دُکاناں دے میں ڈَھٹھّاں وِچ کھتاناں دے میں وِچ…
جیون اک سرد عذاب
جیون اک سرد عذاب جیون اک سرد عذاب پیا جیون اک سرد عذاب عشق، محبت، پیار۔۔۔ مصیبت ہجر وصال۔۔۔ سراب تلخی، ترشی ۔۔۔ بس بے…
جو سازش کر کے مروائے گئے ہیں
جو سازش کر کے مروائے گئے ہیں بہت عزت سے دفنائے گئے ہیں ہمیں تعمیر کے دھوکے میں رکھ کے ہمارے خواب چنوائے گئے ہیں…
جہاں تیرگی سے چراغ جلتے تھے نور کے
جہاں تیرگی سے چراغ جلتے تھے نور کے اسی خاص سمت میں لے گئی مجھے روشنی وہ ملا تو ملنے کا علم تک بھی نہ…
جلا وطن
جلا وطن کچھ لوگوں کو دیس بدر کر دیا جاتا ہے کچھ لوگ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لیتے ہیں اپنی اپنی مجبوری اور…
جز عشق کہیں سچا Relation ہیں کوئی
جز عشق کہیں سچا Relation ہیں کوئی چاہت سے بڑ ی Justification نہیں کوئی یہ درد ملا ہے جو ترے پیار میں مجھ کو یہ…
جدائی راستہ روکے کھڑی ہے
جدائی راستہ روکے کھڑی ہے ملن سکھ ہے مگر کب تک جدائی راستہ روکے کھڑی ہے تیری آنکھیں کب تلک میرے لیے روشن دیا بن…
جب جب خواب بکھر جاتے ہیں
جب جب خواب بکھر جاتے ہیں آنکھ میں آنسو بھر جاتے ہیں رات بھی لوٹ چلی ہے فرحت آؤ چلو اب گھر جاتے ہیں اب…
جاگنا رات بھر اداسی میں
جاگنا رات بھر اداسی میں اور کرنا سفر اداسی میں شام ہوتے ہی جانے کیوں میرا ڈوب جاتا ہے گھر اداسی میں چھوڑو ایسی بھی…
تیرے کچھ خواب جنازے ہیں مری آنکھوں میں
تیرے کچھ خواب جنازے ہیں مری آنکھوں میں وہ جنازے جو کبھی گھر سے اٹھائے نہ گئے فرحت عباس شاہ (کتاب – تیرے کچھ خواب)
تیرا ملنا کوئی آبادی سہی
تیرا ملنا کوئی آبادی سہی اب بھی لگتا ہے یہی عمر بے چین گزر جائے گی بدنصیبی کوئی موسم نہیں ہوتی کہ گزر جائے کوئی…
اب تعارف یہی ہمارا ہے
اب تعارف یہی ہمارا ہے ہم مسافر ہیں تو ستارہ ہے اپنی صف میں اگر کریں شامل پیٹ پر سنگ بھی گوارہ ہے یہ جو…
تو کیا ہوا جو تمہاری کوئی سہیلی نہیں
تو کیا ہوا جو تمہاری کوئی سہیلی نہیں میں ہوں نا ساتھ مری جان تو اکیلی نہیں تو رات ہے تو میں شاعر ہوں تیرا…
تھوڑا عشق نبھا پائے
تھوڑا عشق نبھا پائے سارا جیون بیت گیا سارا سارا دن تیری باتیں کرتا رہتا ہوں علم نہیں تھا اس دل کو ایسی چپ لگ…
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم
تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم تمہیں بھولے نہیں ہیں ہم تمہارا چاند سا چہرا ہماری خاص یادوں کے فریموں میں سجا ہے مسکراتا ہے تمہارا…
تمہارے بن بھری بستی ہمیں ویران لگتی ہے
تمہارے بن بھری بستی ہمیں ویران لگتی ہے ہمارا دل نہیں لگتا کبھی ملنے چلے آؤ فرحت عباس شاہ (کتاب – اداس اداس)
تم ہوئے اور ہم کہ بس
تم ہوئے اور ہم کہ بس آج تو موسم کہ بس ایسی آمیزش ہوئی یوں ہوئے باہم کہ بس مسکرا اٹھتی تھی وہ اس طرح…
تم جب سے گئے چھین کے ہر بات سہانی
تم جب سے گئے چھین کے ہر بات سہانی اب شام رہی ہے نہ کوئی رات سہانی آئے نہ کبھی لوٹ کے بچھڑے ہوئے موسم…
تلخی عمر سے
تلخی عمر سے جس قدر ظلم یہاں جائز ہے تلخی عمر سے بڑھ کر ہے بہت ڈوبنے والے پہ جب پھینکتے ہیں سنگ یہ دنیا…
ترے وصال کے دریا کے پار سوکھ گیا
ترے وصال کے دریا کے پار سوکھ گیا اداس تنہا شجر بار بار سوکھ گیا میں باغ باغ میں پھرتا ہوں موت کا مارا بہار…
ترقی
ترقی انسان کے ہاتھوں انسانوں کے ادھڑے ہوئے جسم اور تار تار روحیں دیکھ دیکھ کر آنکھیں کانٹوں سے بھر گئی ہیں اور دل انگاروں…
تجھ سے میں، مجھ سے غم وابستہ
تجھ سے میں، مجھ سے غم وابستہ ایک سے ایک ستم وابستہ ایک مدت سے ہوئے بیٹھے ہیں آس امید سے ہم وابستہ تم کبھی…
پیٹ
پیٹ سینہ بھوک بھوک چلانے والے میرے بس میں ہوتا تو ان سے پیٹ لے کر علیحدہ رکھ دیتا یا انہیں پیٹ پہ پتھر باندھنا…
پہلا کنارا
پہلا کنارا چار سانسوں کی مسافت پہ ہے سامانِ سکوں رہگزر ہاتھ میں ہوتی تو کبھی جانے نہ دیتے ایسے انگلیاں ترسی ہوئی آنکھیں ہیں…
پڑاؤ سراب
پڑاؤ سراب راستوں کی حدیں اک ذرا سکھ کا باعث ہوئیں تو مسافت بڑے خاص انداز سے ہنس پڑی فرحت عباس شاہ (کتاب – دکھ…
پر یہ دل یہ سودائی
پر یہ دل یہ سودائی منظروں سرابوں کی شدتوں سے گھبرا کر راہ تو بدل لی ہے پر یہ دل یہ سودائی روک روک لیتا…
بیتے ہیں عجب کشمکشِ ذات میں رستے
بیتے ہیں عجب کشمکشِ ذات میں رستے پڑتا تھا قدم اور تو دل اور کہیں پر ممکن ہی نہیں تھا کہ تری راہ سے ہٹتے…
بے قراری کی طرح شب بیتی
بے قراری کی طرح شب بیتی غم کے ماروں کی طرح شب بیتی جن پہ جلتا نہیں چراغ کوئی ان مزاروں کی طرح شب بیتی…
بے سبب کر گیا کنارا تو
بے سبب کر گیا کنارا تو ہم سمجھتے تھے ہے سہارا تو ہم سمجھتے ہیں موت کی صورت کر گیا ہے کوئی اشارا تو ہم…
بے بسی کی آخری
بے بسی کی آخری حد مجھے یرغمال بنا کے میری آزادی کے بدلے خود مجھے شرائط پیش کی گئیں تو میں بیچارگی سے ہنس دیا…
بوسنیا
بوسنیا بسمل کسے خط لکھیں کون آئے گا موت شریانوں میں دندناتی پھرتی ہے خوف نے ریڑھ کی ہڈی میں گھر بنا لیا ہے رات…
بہت ہی بے سہارا کر گیا ہے
بہت ہی بے سہارا کر گیا ہے کوئی ہم سے کنارا کر گیا ہے کوئی چپ چاپ دنیا کے مظالم تری خاطر گوارا کر گیا…
بن نہ پائے اسے پکارے بنا
بن نہ پائے اسے پکارے بنا درد کھلتا نہیں سنوارے بنا تو اگر ساتھ ہو تو اچھا ہے چاند جچتا نہیں ستارے بنا وہ سمجھتا…
بڑی بھڑک بھڑک کر آگ جلے
بڑی بھڑک بھڑک کر آگ جلے مجھ دیوانے کا بھاگ جلے فرحت عباس شاہ (کتاب – سوال درد کا ہے)
بچھڑ گیا تھا جو بے چینیوں کے موسم میں
بچھڑ گیا تھا جو بے چینیوں کے موسم میں اُسے کہو کہ زمانے اُسے بلاتے ہیں فرحت عباس شاہ (کتاب – شام کے بعد –…
باقیات
باقیات میں نے اب تک جتنی بھی جدائیاں سہی ہیں اور جتنے بھی دلوں کو روگ لگائے ہیں شاید میرے ظاہر سے ظاہر نہ ہوں…
بادل
بادل کب تلک یونہی ٹھہرے رہو گے عین دل کے اوپر اور آنکھوں کے اندر تمہارے آجانے سے دور دور تک چھا جانے سے دھوپ…
آئینے آنکھوں تلے جتنے بھی تھے
آئینے آنکھوں تلے جتنے بھی تھے وقت نے سب پر خراشیں ڈال دیں اب تو سب کچھ بھولتا جاتا ہوں میں جو کبھی اترا نہیں…
ایک سے ایک عجب راستہ کھلتا ہے اگر
ایک سے ایک عجب راستہ کھلتا ہے اگر آرزو راز رہے دل کے نہاں خانوں میں فرحت عباس شاہ (کتاب – اک بار کہو تم…
ایک تو دل بھی ہے اداس بہت
ایک تو دل بھی ہے اداس بہت اس پہ موسم ہے ناشناس بہت ہم کو ویرانیوں میں رہنے دو ہم کو ویرانیاں ہیں راس بہت…
ایسے میں تارے بھی پار اتر جاتے ہیں
ایسے میں تارے بھی پار اتر جاتے ہیں شب تو بیت چلی ہے اٹھو گھر جاتے ہیں جاتے جاتے اس کے در پر خاموشی سے…
اے عمر رواں پرسش ایام کہاں ہے
اے عمر رواں پرسش ایام کہاں ہے جس میں ہو سکوں روح کو وہ شام کہاں ہے ہر رستے کے آخر میں کئی رستے کھلے…
اے تمنا اے مری بادل سوار
اے تمنا اے مری بادل سوار اے تمنا اے مری بادل سوا آ گلے لگ جا مرے اور کھل کے رو رو سمندر خشک ہیں…
آوارگیِ شب و روز
آوارگیِ شب و روز میں نے سوچا تمہیں دل لکھ بھیجوں کبھی سوچا بے چینی تمہیں یاد تو ہو گا میں کتنا ٹھکرایا ہوا ہوں…