میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت

میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے تیرے جانے کے بعد بھی میں نے تیری خوشبو سے…

ادامه مطلب

مگر یہ زخم یہ مرہم۔۔۔

مگر یہ زخم یہ مرہم۔۔۔ تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکار تمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیں بس ایک منظرِ بے ہجر و…

ادامه مطلب

محرومی سی محرومی ہے ناکامی سی ناکامی

محرومی سی محرومی ہے ناکامی سی ناکامی غم تو دیوانہ کر دے اچھے خاصے فرزانے کو جون تو اِک دیوانہ ٹھیرا اور پھر کیسا دیوانہ…

ادامه مطلب

لَوحِ مسافت

لَوحِ مسافت تھکا ہوا ہوں میں، اس کنارے سے اِس کنارے تلک بہت ہی تھکا ہوا ہوں طرف طرف روشنی کی بینائی کی مسافت ہے…

ادامه مطلب

لُطفِ دیدارِ آخری بھی سہی

لُطفِ دیدارِ آخری بھی سہی آخری بار یہ خوشی بھی سہی ہے بدن سوز باد نیم شبی ایسے عالم میں چاندنی بھی سہی کرب معمول…

ادامه مطلب

کیا ہے جو غیر وقت کے دھاروں کے ساتھ ہیں

کیا ہے جو غیر وقت کے دھاروں کے ساتھ ہیں وہ آئے ہم تو اس کے اشاروں کے ساتھ ہیں اک معرکہ بہار و خزاں…

ادامه مطلب

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے میں سکون پا سکوں گا…

ادامه مطلب

قافلے کا نہ انتظار کرو

قافلے کا نہ انتظار کرو خود ہی اب قصدِ شہر یار کرو ہے یہ شبخوں کا وقت اے یارو قصدِ ایوانِ شہر یار کرو نہیں صحرا…

ادامه مطلب

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سرِ شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی…

ادامه مطلب

شام تک میری بے کلی ہے شراب

شام تک میری بے کلی ہے شراب شام کو میری سر خوشی ہے شراب جہل واعظ کا اُس کو راس آئے صاحبو! میری آگہی ہے…

ادامه مطلب

سفر کے وقت

سفر کے وقت تمہاری یاد مرے دل کا داغ ہے لیکن سفر کے وقت تو بے طرح یاد آتی ہو برس برس کی ہو عادت…

ادامه مطلب

سچائیوں کے ساتھ

سچائیوں کے ساتھ ذہن کا غم،ذات کا غم ،ذات کے رشتوں کا غم کتنے غم ہیں جو شعورِ زندگی کے ساتھ ہی اک مصیبت ہے…

ادامه مطلب

روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں

روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں پھر اُس کے بعد جان نہ رُوٹھا کسی سے میں بانہوں سے میری وہ ابھی…

ادامه مطلب

ذات اپنی گواہ کی جائے

ذات اپنی گواہ کی جائے بند آنکھوں نگاہ کی جائے ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن کچھ تو اس کی بھی چاہ کی…

ادامه مطلب

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں بیچ دیوار ہے اور سایہِ دیوار نہیں شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے…

ادامه مطلب

دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے

دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے ناموری کی بات دگر…

ادامه مطلب

خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو

خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو اے یار کسی شام مرے یار کسی شام بے رونقی ءِ…

ادامه مطلب

حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو

حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو میری سُنو زمان و مکاں میں رہتے ہوئے بہ صد…

ادامه مطلب

جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام

جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام ذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نام پڑ گیا ہے اک…

ادامه مطلب

جب سے میں اپنے آپ میں آیا، نیند گئی آرام گیا

جب سے میں اپنے آپ میں آیا، نیند گئی آرام گیا یادوں نے وہ شور مچایا،نیند گئی آرام گیا میں ہوں اور میں ایک نہیں…

ادامه مطلب

تھی گزشت اُن کی عجیب ہی،وہ جو جان سے تھے گزر گئے

تھی گزشت اُن کی عجیب ہی،وہ جو جان سے تھے گزر گئے ہے تمام شہر تحیری، جو تیری گلی کے تھے، گھر گئے شب و…

ادامه مطلب

تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں

تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں خیر یہ راز آک کھول دیا دو اجازت! کہ جا رہا ہوں میں تم نے باتوں میں زہر گھول…

ادامه مطلب

پُر امیدی بحال مت کیجو

پُر امیدی بحال مت کیجو تُو ہمارا خیال مت کیجو ایک پل ہے کہ ہے ہمیشہ سے گلہِ ماہ و سال مت کیجو جان ہی…

ادامه مطلب

بنام فارہہ

بنام فارہہ ساری باتیں بھول جانا فارہہ تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ ہاں محبت ایک دھوکا ہی تو تھی اب کبھی دھوکا نہ…

ادامه مطلب

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے صحن میں دھوپ پھیل جاتی ہے رنگ موسم ہے اور بادِ صبا شہر کوچوں میں خاک اُڑاتی ہے فرش…

ادامه مطلب

اے خرابی طلبِ خانہ دل سُن تو سہی

اے خرابی طلبِ خانہ دل سُن تو سہی میں تو برباد بھی کر دوں کوئی گھر ہو تو سہی اے عدو! تجھ سے رکھی تیغ…

ادامه مطلب

آسائش امروز

آسائش امروز اِس سے پہلے کہ گزر جائیں یہ لمحات نشاط اِس سے پہلے کہ یہ کلیاں بھی فسردہ ہو جائیں اِس سے پہلے کہ…

ادامه مطلب