جون ایلیا
میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت
میں نے ہر بار تجھ سے ملتے وقت تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے تیرے جانے کے بعد بھی میں نے تیری خوشبو سے…
مگر یہ زخم یہ مرہم۔۔۔
مگر یہ زخم یہ مرہم۔۔۔ تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکار تمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیں بس ایک منظرِ بے ہجر و…
محرومی سی محرومی ہے ناکامی سی ناکامی
محرومی سی محرومی ہے ناکامی سی ناکامی غم تو دیوانہ کر دے اچھے خاصے فرزانے کو جون تو اِک دیوانہ ٹھیرا اور پھر کیسا دیوانہ…
لَوحِ مسافت
لَوحِ مسافت تھکا ہوا ہوں میں، اس کنارے سے اِس کنارے تلک بہت ہی تھکا ہوا ہوں طرف طرف روشنی کی بینائی کی مسافت ہے…
لُطفِ دیدارِ آخری بھی سہی
لُطفِ دیدارِ آخری بھی سہی آخری بار یہ خوشی بھی سہی ہے بدن سوز باد نیم شبی ایسے عالم میں چاندنی بھی سہی کرب معمول…
کیا ہے جو غیر وقت کے دھاروں کے ساتھ ہیں
کیا ہے جو غیر وقت کے دھاروں کے ساتھ ہیں وہ آئے ہم تو اس کے اشاروں کے ساتھ ہیں اک معرکہ بہار و خزاں…
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے میں سکون پا سکوں گا…
قافلے کا نہ انتظار کرو
قافلے کا نہ انتظار کرو خود ہی اب قصدِ شہر یار کرو ہے یہ شبخوں کا وقت اے یارو قصدِ ایوانِ شہر یار کرو نہیں صحرا…
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سرِ شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی…
شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام تک میری بے کلی ہے شراب شام کو میری سر خوشی ہے شراب جہل واعظ کا اُس کو راس آئے صاحبو! میری آگہی ہے…
سفر کے وقت
سفر کے وقت تمہاری یاد مرے دل کا داغ ہے لیکن سفر کے وقت تو بے طرح یاد آتی ہو برس برس کی ہو عادت…
سچائیوں کے ساتھ
سچائیوں کے ساتھ ذہن کا غم،ذات کا غم ،ذات کے رشتوں کا غم کتنے غم ہیں جو شعورِ زندگی کے ساتھ ہی اک مصیبت ہے…
روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں
روٹھا تھا تجھ سے یعنی خود اپنی خوشی سے میں پھر اُس کے بعد جان نہ رُوٹھا کسی سے میں بانہوں سے میری وہ ابھی…
ذات اپنی گواہ کی جائے
ذات اپنی گواہ کی جائے بند آنکھوں نگاہ کی جائے ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن کچھ تو اس کی بھی چاہ کی…
دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں
دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں بیچ دیوار ہے اور سایہِ دیوار نہیں شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے…
دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے
دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے ناموری کی بات دگر…
خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو
خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو اے یار کسی شام مرے یار کسی شام بے رونقی ءِ…
حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو
حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو میری سُنو زمان و مکاں میں رہتے ہوئے بہ صد…
جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام
جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام ذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نام پڑ گیا ہے اک…
جب سے میں اپنے آپ میں آیا، نیند گئی آرام گیا
جب سے میں اپنے آپ میں آیا، نیند گئی آرام گیا یادوں نے وہ شور مچایا،نیند گئی آرام گیا میں ہوں اور میں ایک نہیں…
تھی گزشت اُن کی عجیب ہی،وہ جو جان سے تھے گزر گئے
تھی گزشت اُن کی عجیب ہی،وہ جو جان سے تھے گزر گئے ہے تمام شہر تحیری، جو تیری گلی کے تھے، گھر گئے شب و…
تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں
تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں خیر یہ راز آک کھول دیا دو اجازت! کہ جا رہا ہوں میں تم نے باتوں میں زہر گھول…
پُر امیدی بحال مت کیجو
پُر امیدی بحال مت کیجو تُو ہمارا خیال مت کیجو ایک پل ہے کہ ہے ہمیشہ سے گلہِ ماہ و سال مت کیجو جان ہی…
بنام فارہہ
بنام فارہہ ساری باتیں بھول جانا فارہہ تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فارہہ ہاں محبت ایک دھوکا ہی تو تھی اب کبھی دھوکا نہ…
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے صحن میں دھوپ پھیل جاتی ہے رنگ موسم ہے اور بادِ صبا شہر کوچوں میں خاک اُڑاتی ہے فرش…
اے خرابی طلبِ خانہ دل سُن تو سہی
اے خرابی طلبِ خانہ دل سُن تو سہی میں تو برباد بھی کر دوں کوئی گھر ہو تو سہی اے عدو! تجھ سے رکھی تیغ…
آسائش امروز
آسائش امروز اِس سے پہلے کہ گزر جائیں یہ لمحات نشاط اِس سے پہلے کہ یہ کلیاں بھی فسردہ ہو جائیں اِس سے پہلے کہ…