تعشُّق لکھنوی
بار خاطر ہی اگر ہے تو عنایت کیجے
بار خاطر ہی اگر ہے تو عنایت کیجے آپ کو حسن مبارک ہو مرا دل مجھ کو تعشُّق لکھنوی
آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہار
آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہار روتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئے تعشُّق لکھنوی
تمام عمر کمی کی کبھی نہ پانی نے
تمام عمر کمی کی کبھی نہ پانی نے عجب کریم کی رحمت ہے دیدۂ تر پر تعشُّق لکھنوی
ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی
ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے تعشُّق لکھنوی
ہر طرف حشر میں جھنکار ہے زنجیروں کی
ہر طرف حشر میں جھنکار ہے زنجیروں کی ان کی زلفوں کے گرفتار چلے آتے ہیں تعشُّق لکھنوی
اطلاعیه برای شاعران و نویسندگان
پایگاه اینترنتی شعرستان از همکاری همه شاعران و نویسندگان آماتور و حرفه ای از سراسر جهان استقبال میکند و مشارکت فعال آنها را خیر مقدم میگوید. شما میتوانید اشعار، مطالب معلوماتی و مقالات خویش را از طریق ایمیل و یا فرم تماس ارسال نماید. مطالب ارسالی در اولین فرصت مناسب منتشر خواهند شد