دیر تک چاند کے ہمراہ سفر کاٹتا ہے

دیر تک چاند کے ہمراہ سفر کاٹتا ہے
دل ترے وصل کی راتوں کا ثمر کاٹتا ہے
دل وہ محبوس پرندہ ہے، ترے ہجر میں جو
حبس کو کاٹ نہیں سکتا تو پر کاٹتا ہے
ٹیس اٹھتی ہے تو لگتا ہے کہ شمشیر چلی
درد سے لگتا ہے گویا کہ جگر کاٹتا ہے
ایسا مشاق کوئی شہر میں آ نکلا ہے
پاؤں کی نوک سے جو کاسہء سر کاٹتا ہے
شہر زہریلا سہی لاکھ ترے بعد مگر
کیسے بتلاؤں کہ جس کاٹ سے گھر کاٹتا ہے
ایک منظر ہے تہِ تیغ مقابل اور پھر
عکس در عکس مرا دیدہء تر کاٹتا ہے
صبح سے شام تلک چل کے بھی رہتا ہوں وہیں
کوئی تو ہے جو مری راہگزر کاٹتا ہے
چار سُو دشت ہے اک پھیلا ہوا جیون کا
درد یہ دشت بلا خوف و خطر کاٹتا ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *