ہم کو اس میں بھی زمانے لگ جائیں
تجھ پہ بھی بیتے اگر میری طرح
تیرے بھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں
آپ کے روکے رکیں گے نہ کبھی
ہم اگر اشک بہانے لگ جائیں
رات کے پچھلے پہر خواب کئی
خامشی اپنی سنانے لگ جائیں
بھیج بازارِ وفا میں ان کو
درد بھی کچھ تو کمانے لگ جائیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)