میں کسی صبح کا اشارا ہوں

میں کسی صبح کا اشارا ہوں
رات کا آخری ستارا ہوں
آپ اپنے لیے تھا دریا میں
دوسروں کے لیے کنارا ہوں
اتنا تنہا و بے سہارا میں
شہر بھر کے لیے سہارا ہوں
شہر نے کچھ نہیں کہا مجھ کو
اپنی بے چینیوں کا مارا ہوں
میں ہی سورج ہوں میں ہی صحرا ہوں
میں ہی دریا ہوں میں ہی دھارا ہوں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اداس اداس)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *