مجھے اس زندگانی سے کوئی شکوہ نہیں لیکن
ذرا سی بے سکونی ہے
نجانے کیوں مرے دل میں
عجب اک خوف رہتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
مرے دل پر،
تمہاری یاد کی دستک میں وہ شدت نہیں ہوتی
بہت سی خاص باتیں ہیں
مجھے جو عام لگتی ہیں
مرے دل میں انہیں سن کر کوئی طوفاں نہیں اُٹھتا
تمہاری شربتی آنکھیں‘
تمہاراخواب سا چہرہ،
تمہارا مخملیں لہجہ،
سبھی کچھ خواب لگتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
سنہری تتلیوں جیسے وہ سب خوش رنگ سے سپنے
مرے لفظوں کے پھولوں پر
بہت دن سے نہیں بیٹھے
مجھے محسوس ہوتا ہے،
سمے کی تیز لہروں نے
ہمارے ریت کے کچے گھروندے توڑ ڈالے ہیں
مجھے اُن تیز لہروں سے
سنہری تتلیوں جیسے
سبھی خوش رنگ سپنوں سے
کوئی شکوہ نہیں لیکن!
ذرا سی بے سکونی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
تمہارے دل کے دروازے پہ میری یاد کی دستک
مری جاں! اب نہیں ہوتی
مری جاں! اب نہیں ہوتا
کہ میری یاد آئے تو
تمہاری آنکھ بھر آئے
دعائیں مانگتے لمحے
مجھے تم بھول جاتی ہو
مگر پھربھی مجھے تم سے
کوئی شکوہ نہیں لیکن
عجب سی بے سکونی ہے
عجب اک خوف ہے دل میں
تمہیں میں بھول جاؤں گا