وہ کتنا باوفا لگنے لگا ہے
یہ کیسے دور میں ہم جی رہے ہیں
بشر بھی اب خدا لگنے لگا ہے
مجھے تاریکیوں نے ڈس لیا ہے
مجھے جگنو دیا لگنے لگا ہے
عجب سی پیاس ٹھہری ہے لبوں پر
سمندر بھی ذرا لگنے لگا ہے
دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتا ہے
وہ کتنا پارسا لگنے لگا ہے
یوں اپنے شہر میں گم ہو گیا ہوں
کہ ہر رستہ نیا لگنے لگا ہے