مصالحت

مصالحت
مجھ سے کہتی ہو کہ تم اپنی محبت لے لو
یہ مجھے خون رلاتی ہے بہت راتوں میں
جن کو سننے سے مجھے میرا پتا ملتا ہے
کھوئی رہتی ہوں صبح وشام انہی باتوں میں
جانتی ہوں کہ بہت تلخ حقیقت ہے مگر
ساتھ چاہوں بھی تمہارے تو نہیں چل سکتی
بات یہ مان لو! تم اپنی محبت لے لو
میں اب اس آگ میں اک پل بھی نہیں جل سکتی
مجھ سے کہتی ہو کہ تم اپنی محبت لے لو
جانِ جاں کیسے تمھیں بات یہ سمجھاؤں میں
آج تک رکھا نہیںمیںنے محبت کا حساب
مجھ کو معلوم نہیں کتنی محبت کی ہے
ہاں مگر دل میں تمہارے تو سجی ہے ساری
یوں کرو! میری محبت مجھے واپس کر دو
دیکھ لینا کہ کوئی چیز نہ رہ جائے کہیں
خواب بھی، لفظ بھی اور میری سبھی سوچیں بھی
جو ہوئیں نذر تمہاری وہ مری نیندیں بھی
ساتھ جو ہم نے گزارے وہ سبھی لمحے بھی
مجھ کو معلوم نہیں کتنی محبت کی ہے
کیوں بھلا میرے سہارے کی طلب ہے تم کو
بوجھ لگتی ہے تمہیں میری محبت جاناں!
یوں کرو! میری محبت مجھے واپس کر دو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *