ہو سکتا ہے

ہو سکتا ہے
ہو سکتا ہے یاد ہو اس کو بھیگی شام دسمبر کی
ہو سکتا ہے بھول گئی ہو وہ ایسی سب باتوں کو
ہو سکتا ہے میرا سورج اس کا دن چمکاتا ہو
ہوسکتا ہے یادیں میری تڑپاتی ہوں راتوں کو
ہو سکتا ہے عید پہ اب بھی ویسے ہی وہ سجتی ہو
ہو سکتا ہے خود سے اکثر میری باتیں کرتی ہو
ہو سکتا ہے آنکھیں اس کی ایسے ہی بھر آتی ہوں
ہو سکتا ہے یادیں میری اس کا دل بہلاتی ہوں
ہو سکتا ہے یہ سب عاطفؔ میرے دل کا منظر ہو
جو کچھ اس کے بارے سوچوں وہ سب میرے اندر ہو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *