یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی

یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کی
کچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کی

آپ نے پروا نہ کی میں قید ہستی سے چھٹا
مہربانی ہو گئی نا مہربانی آپ کی

قتل کی ضد ہے نزاکت سے نہیں اٹھتی ہے تیغ
دیدنی ہے آج تو شان جوانی آپ کی

جاننے والوں سے پردہ اس قدر بیکار ہے
حسن ظاہر سب پہ اور یہ لن ترانی آپ کی

مرنے والے کر کے آنکھیں بند قبروں میں گئے
واہ وا کس شان سے آئی جوانی آپ کی

داغ الفت اس لیے سینے میں رکھا ہے نہاں
کوئی میرے پاس کیوں دیکھے نشانی آپ کی

ناصری لکھنوی

Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *