وہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرے
اداس ہوں کہ مرا دل نہیں ہے پہلو میں
مری طرح کوئی مغموم ہو خدا نہ کرے
سمجھ میں آئے جو برگشتگی مقدر کی
مریض آپ کا مرنے کی بھی دعا نہ کرے
جفا جو چاہے کرے ناصری وہ دل آزار
کسی غریب سے دل کو مگر جدا نہ کرے
ناصری لکھنوی