محلہ سائیں سائیں کر رہا ہے

محلہ سائیں سائیں کر رہا ہے
مرے اندر کا انساں مر رہا ہے
جمی ہے سوچ پر قدموں کی چاپیں
نہ جانے کون پیچھا کر رہا ہے
میں اکثر بادلوں کو دیکھتا ہوں
کوئی بوڑھا عیادت کر رہا ہے
اب اس کی ٹھوکروں میں تاج ہو گا
وہ ساری عمر ننگے سر رہا ہے
دل اپنے غم رسیدہ پیراہن میں
اُمیدوں کا کشیدہ بھر رہا ہے
مرے سینے سے گذری ریل گاڑی
جُدائی کا عجب منظر رہا ہے
بڑا تاجر بنا پھرتا ہے سورج
مرے خوابوں کا سودا کر رہا ہے
ہو فرصت تو ہمارے دُکھ بھی بانٹے
ذرا دیکھو خدا کیا کر رہا ہے
راحت اندوری
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *