تیری جانب مگر سفر میں ہوں
ہر طرف بے بسی نمایاں ہے
ایسا لگتا ہے اپنے گھر میں ہوں
وہ مجھے رائگاں سمجھتے ہیں
جب کہ میں بھی کسی نظر میں ہوں
زندگی جان چھوڑ دے میری
اب تو میں موت کے سفر میں ہوں
عشق کو دردِ سَر بھی کہتے ہیں
مبتلا میں بھی دردِ سَر میں ہوں
اے خدا! بات کیوں نہیں کرتا
اے خدا! اب تو تیرے گھر میں ہوں
مانا میں اُس کی زندگی میں نہیں
ہاں مگر اُس کی چشمِ تر میں ہوں
*
ترے فرشتے بھی شاید بسر نہ کر پاتے
مرے نصیب میں جو زندگی لکھی تُو نے