وقت کی دھوپ میں سڑا ہوں

وقت کی دھوپ میں سڑا ہوں میں
اپنے قدموں پہ تب کھڑا ہوں میں
میری حالت سے صاف لگتا ہے
زندگی سے بہت لڑا ہوں میں
آزمائش میں ڈال دوں گا تجھے
وقت ! سُن تجھ سے بھی کڑا ہوں میں
میں نہیں دستیاب خود کو بھی
حالانکہ خود میں ہی پڑا ہوں میں
ایک ضد‘ جس نے مجھ کو مار دیا
اب تلک اُس پہ ہی اَڑا ہوں میں
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *