لب لبوں میں جبھی تھے ڈالے گئے
اس زمیں کی طرف ہی کیوں بھیجا؟
آسمانوں سے جب نکالے گئے
وہ ہمیں اس قدر عزیز رہا
اُس کے تو درد بھی سنبھالے گئے
میرا دیوان بھی تو ضائع گیا
وہ خطوط اور وہ مقالے گئے
آؤ تبلیغِ عشق کرنے چلیں
وہ جہاں سارے حسن والے گئے
دوست دشمن میں فرق کیا رکھتے
جو وقارؔ آئے وہ وفا لے گئے
*
ہم ہیں وہ جن کو نہیں اب کہ دعاؤں پہ یقیں
لوگ پھر ہم سے ہی کہتے ہیں دعا کیجیے گا