میں چاہتا ہوں کہ

غزل
میں چاہتا ہوں کہ دیکھوں نہ تیرے گھر کی طرف
نگاہیں خود چلی جاتی ہیں بام و در کی طرف
نگاہِ قلب سے دیکھو مِری نظر کی طرف
چلا ہے ڈوبنے ہر خواب چشمِ تر کی طرف
کسی کا دھیان نہ ہو سختیِ سفر کی طرف
ہر ایک شخص مخاطب ہو راہبر کی طرف
زوال کیا ہے پتا چل گیا نہ سورج کو
بڑے غرور سے نکلا تھا دوپہر کی طرف
کوئی تو ہو کہ جو پوچھے یہ دستِ ظالم سے
یہ سنگ باریاں کیوں شاخِ بے ثمر کی طرف
ہمیں بھی آرزو راغبؔ ہے مال و دولت کی
پہ بھاگتے نہیں ہم لوگ مال و زر کی طرف
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *