محبت کی ہوا جب دل میں پہلی بار چلتی ہے
نہ پوچھو کس قدر ہر سانس نا ہموار چلتی ہے
ہر اِک ذرّہ مہکتا ہے وہاں مشکِ خُتن جیسا
ہوا اُن کی گلی میں کتنی خوشبو دار چلتی ہے
اگر ممکن ہو تو آکر کسی دن تم ہی سمجھا ــدو
مِری مرضی کہاں دل پر مِرے دل دار چلتی ہے
کہیں چلتی ہے اب بھی بیل گاڑی کچّی سڑکوں پر
کہیں سورج کی کرنوں سے بھی موٹر کار چلتی ہے
یہ کیا نقشے میں تم نے ہر طرف شیشہ دکھایا ہے
مِرے بھائی یہاں بس اینٹ کی دیوار چلتی ہے
کسے معلوم کس جانب سے اُن کی روشنی چمکے
سو ہر جانب نگاہِ طالبِ دیدار چلتی ہے
توّجہ دیجیے اخلاق اور کردار پر اپنے
کہاں ہر ایک دل پر شوخیِ گفتار چلتی ہے
عمل کا دیکھیے ردِّ عمل سے کیا تعلق ہے
’’اِدھر میں سر اُٹھاتا ہوں اُدھر تلوار چلتی ہے‘‘
بظاہر سُست آتے ہیں نظر دنیا کو ہم راغبؔ
ہماری فکر لیکن روشنی رفتار چلتی ہے
نومبر ۲۰۱۰ء طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت