کیا بتاؤں کس قدر

غزل
کیا بتاؤں کس قدر دل بے سکوں ہے آج بھی
آپ سے ملنے کی خواہش جوں کی تُوں ہے آج بھی
آج بھی ہے عقل راہِ عشق میں زنجیرِ پا
بادبانِ کشتیِ الفت جنوں ہے آج بھی
آج بھی ہے ان سے حالِ دل بتانے کی تڑپ
رینگنے والی کہاں کانوں پہ جوں ہے آج بھی
آج بھی ہے خوف دل کے ٹوٹ جانے کا مجھے
آپ سے الفت مجھے ، کیسے کہوں ، ہے آج بھی
آج بھی اوروں کی خاطر اشک ہوتے ہیں رواں
دل کو دل سے راہ ہے سوزِ دروں ہے آج بھی
آج بھی انساں کے دم سے یہ زمیں ہے باوقار
آسماں عظمت پر اِس کی سرنگوں ہے آج بھی
آج بھی لوگوں کی رگ میں خون ہے قابیل کا
کس قدر ارزاں زمیں پر قتل و خوں ہے آج بھی
آج بھی دل یاد کرتا ہے بہت راغبؔ اُنھیں
سُونا سُونا میرے دل کا اندروں ہے آج بھی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *