کوئی مجھ سے خفا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
سر تن سے جدا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
مِرے شعروں سے ، مِری آہوں سے ، مِرے نالوں سے ، مِری چیخوں سے
اِک حشر بپا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
یہ سچ کہنا اور سچ سننا ، یہ سچ پڑھنا اور سچ لکھنا
مِرے حق میں بُرا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
زلفِ اُردو سلجھانے میں، احساس کے دیپ جلانے میں
نقصان بڑا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
ہے کون اجالوں کا دشمن ، کس کی جانب ہے روے سخن
دنیا کو پتا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ