شر پسندوں کی راہ

غزل
شر پسندوں کی راہ سے بچنا
جس قدر ہو گناہ سے بچنا
جو نہ ٹوکے تمھاری لغزش پر
ایسے ہر خیر خواہ سے بچنا
خود پسندوں کی ہم رکابی سے
خود غرَض سربراہ سے بچنا
اے ستارو کہیں پھرو لیکن
قربِ غارِ سیاہ سے بچنا
ساتھ دینا کبھی نہ ظالم کا
بے سہاروں کی آہ سے بچنا
مجھ کو لگتا ہے غیر ممکن ہے
دوستوں کی نگاہ سے بچنا
ہر سخن ور کو چاہیے راغبؔ
بے تکی واہ واہ سے بچنا
اگست ۲۰۱۲ء غیر طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *