رہِ حیات میں مثلِ غبار میں ہی کیوں
بکھر رہا ہوں سرِ رہ گزار میں ہی کیوں
جگر کے خون سے میں نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گیا بے اختیار میں ہی کیوں
کمی نہیں ہے جہاں میں وفا شعاروں کی
تمھارے ظلم و ستم کا شکار میں ہی کیوں
کہیں بھی ظلم کی تلوار جب برستی ہے
تڑپنے لگتا ہوں بے اختیار میں ہی کیوں
کبھی یہ سوچنا تجھ کو نصیب ہو جاتا
کہ کر رہا ہوں تِرا انتظار میں ہی کیوں
یہ پوچھتا ہے مری ذات میں چھپا شاعر
غمِ حیات کا آئینہ دار میں ہی کیوں
قصور وارِ محبّت تو کتنے ہیں راغبؔ
عذابِ ہجر کے زیرِ حصار میں ہی کیوں
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس