دنیا ہے ہم سے بر سرِ پیکار اِک طرف
ہم اپنے حال سے بھی ہیں بیزار اِک طرف
قصرِ انا میں وہ کہیں محصور ہو نہ جائیں
ہر دن اُٹھا رہے ہیں جو دیوار اِک طرف
جو اُن کا کام ہے وہ مبارک اُنھیں مگر
کرتا رہوں میں راستہ ہموار اِک طرف
ہنگامہ اِک طرف ہے کہ آنکھیں ہی پھوڑ دو
عریانیت کا گرم ہے بازار اِک طرف
اِک سمت دھر رہے ہیں وہ الزام بے دریغ
دُہرا رہے ہیں حاشیہ بردار اِک طرف
کیسے بنے گا حلقۂ سالم خلوص کا
جب جھک رہا ہے آپ کا پرکار اِک طرف
شہرِ ہوَس میں مہر و وفا کے ستار کا
اِک تار اِک طرف ہے تو اِک تار اِک طرف
بے غور و فکر آپ بھی اخباروں کی طرح
اُنگلی اُٹھا رہے ہیں لگاتار اِک طرف
منزل کی جستجو میں ہے اِک سمت کارواں
مطلب پرست قافلہ سالار اِک طرف
خالی جگہ کہاں ہے کہ دل میں نکالیے
’’گنجایشِ عداوتِ اغیار اِک طرف‘‘
وہ اِک طرف حیا کا ہیں پتلا بنے ہوئے
راغبؔ نہیں ہے جرأتِ اظہار اِک طرف
دسمبر ۲۰۱۲ءطرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت