دشتِ فرقت میں

غزل
دشتِ فرقت میں زندگانی کی
حد نہیں میری بے مکانی کی
زندگی بھر سزائیں کاٹی ہیں
ایک چھوٹی سی خوش گمانی کی
موسمِ ہجر کے اندھیروں میں
تیری یادوں نے ضو فشانی کی
دل ہمیشہ دعائیں دیتا ہے
ایک دشمن کو شادمانی کی
گفتگو جب نہ ہو سکی کھل کر
بدلیاں چھائیں بدگمانی کی
بے کلی کب ہوئی رقم راغبؔ
ہجر آلود زندگانی کی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *