حکمت سے ہے لبریز

غزل
حکمت سے ہے لبریز تو حیرت بھی بلا کی
ہر بات انوکھی تِری اے پیکرِ خاکی
مایوس مصیبت میں نہ ہو اے دلِ بے کس
تقدیر سے لڑ جاتی ہے تدبیر دعا کی
عقدہ نہیں کھُلتا کبھی ناسازیِ دل کا
اے کاش رَسائی ہو کبھی ذہنِ رَسا کی
آنکھوں میں بکھر جاتی ہے یوں ہی کبھی سرخی
تنویر ہے شاید یہ تری سرخ ردا کی
دم لینے کی فرصت تھی کہاں دل کو کسی دم
پابند ہر اک سانس رہی مہر و وفا کی
ٹوٹی نہ کوئی شاخ ہرے پیڑ کی راغبؔ
امّید نہ بر آئی شر انگیز ہَوا کی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: یعنی تُو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *