چاہے نگاہِ عقل میں

غزل
چاہے نگاہِ عقل میں ہو کچھ بھی احتیاط
ہر آدمی کے بس میں نہیں ہوتی احتیاط
لازم ہے احتیاط ہر اِک بات میں مگر
دیکھو بنا نہ دے کہیں بزدل ہی احتیاط
بے احتیاطیوں نے کیے برپا انقلاب
منھ دیکھتی ہی رہ گئی بے چاری احتیاط
زخمی نہ ہو قلم سے ہمارے کسی کا دل
کرتے ہیں ہر کلام میں ہم اِس کی احتیاط
ہم مصلحت پرست ہیں راغبؔ نہ متّقی
ہر بات میں تو ہم سے نہیں ہوگی احتیاط
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *