جی چاہتا ہے جینا جذبات کے مطابق
حالات کر رہے ہیں حالات کے مطابق
جس درجہ ہجر رُت میں آنکھیں برس رہی ہیں
غزلیں بھی اُگ رہی ہیں برسات کے مطابق
سُکھ چین اور خوشی کا اندازہ مت لگاؤ
اسباب و مال و زر کی بہتات کے مطابق
ہو شہر کے مطابق حاصل ہر اِک سہولت
ماحول پُر سکوں ہو دیہات کے مطابق
دیکھو خلوصِ نیّت جذبات اور محبّت
مت چاہتوں کو تولو سوغات کے مطابق
چادر ہی کے مطابق پھیلاؤ پانْو راغبؔ
معیارِ زیست رکھّو اوقات کے مطابق
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس