جسم سے جاں کی ہے

غزل
جسم سے جاں کی ہے منظور جدائی مجھ کو
گردشِ وقت نہ دے اور صفائی مجھ کو
ایک تو شیریں دہن اُس پہ یہ اُردو کی مِٹھاس
اچھّی لگتی ہے تری تلخ نوائی مجھ کو
ایسا لگتا ہے کہ اب خود میں نہیں میں شاید
توٗ مِرے عکس میں دیتا ہے دکھائی مجھ کو
ہاتھ ہرگز نہ ہلانا دمِ رخصت مری جاں
ہلنے دے گا نہ ترا دستِ حنائی مجھ کو
آتشِ عشق کی زد میں ہوں سراپا راغبؔ
کوئی تلقین نہ کر اب مرے بھائی مجھ کو
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: یعنی تُو
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *