جس میں مکر و دغا نہیں موجود
شاید ایسی فضا نہیں موجود
مجھ کو چھُو کر ذرا بتاؤ مجھے
میں ہوں موجود یا نہیں موجود
کون خاکی ہے اس قبیلے میں
کس میں کبر و ریا نہیں موجود
اُن سے رشتہ بحال رکھنے کا
دل تو ہے حوصلہ نہیں موجود
اُس کے کبر و غرور کا اب بھی
ہے غبارہ ہَوا نہیں موجود
خود شناسی کی ہے کمی ورنہ
’’ذات میں اپنی کیا نہیں موجود‘‘
اُس لفافے میں بند ہوں راغبؔ
جس پہ نام اور پتہ نہیں موجود
مئی ۲۰۱۲ء طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت