توڑ کے دل کو کیا ملتا ہے سچ بولو
دل کو تم نے سمجھا کیا ہے سچ بولو
تم کیا جانو وصل کی لذّت ہجر کا غم
تم نے کسی سے پیار کیا ہے سچ بولو
کس کے خواب سے آنکھیں روشن روشن ہیں
کون تصوّر میں رہتا ہے سچ بولو
کس کی غزلیں ذہن پہ چھائی رہتی ہیں
کس کے شعر کا دل شیدا ہے سچ بولو
تم کو کسی سے عشق نہیں یہ سچ ہے مگر
کون تمھیں اچھّا لگتا ہے سچ بولو
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس