تمہید میں نہ وقت

غزل
تمہید میں نہ وقت یوں برباد کیجیے
کیا مدّعا ہے آپ کا ارشاد کیجیے
آکر غمِ فراق سے آزاد کیجیے
ویراں ہے قصرِ دل اِسے آباد کیجیے
ہے میرا دل وہی دلِ فولاد آشنا
آماج گاہِ تیرِ ستم، یاد کیجیے
ماضی کی اُن کو ساری جفائیں دلا کے یاد
’’میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے‘‘
راغبؔ سنا کے اپنی غزل بزمِ شعر میں
محفل کا یوں سکوت نہ برباد کیجیے
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: لفظوں میں احساس
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *