تقدیرِ وفا کا پھوٹ

غزل
تقدیرِ وفا کا پھوٹ جانا
میں بھولا نہ دل کا ٹوٹ جانا
کیا دیتا رہے گا دل پہ دستک
اِک جملہ جو میں نے جھوٹ جانا
اِک صورت اُتارنا غزل میں
لفظوں کا پسینا چھوٹ جانا
کیا روؤں تجھے اے دھیان درپن
پل بھر میں ہے تجھ کو ٹوٹ جانا
کس درجہ سُرور بخش تھا وہ
اُس کوچے میں جھوٹ موٹ جانا
رُک جائے گا ساتھ دھڑکنوں کے
خاموشی کا ٹوٹ پھوٹ جانا
وہ آنا کسی کا دل میں راغبؔ
اور صبر و قرار لوٹ جانا
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *