تعلّقات نبھانا

غزل
تعلّقات نبھانا کوئی محال نہیں
تمھارا ذہن ہی مائل بہ اعتدال نہیں
زمین دوز ہوئے کتنے آسمان وجود
تِرے غرور کا سورج بھی لازوال نہیں
حصارِ دوست میں گزری تمام عمر مگر
تمھاری طرح ملا کوئی ہم خیال نہیں
عجیب سانحہ واقع ہوا وصال کے بعد
بدن سے رُوح کا رشتہ بھی اب بحال نہیں
دبا ہُوا ہوں میں اِس طرح تیرے احساں سے
زباں سے اُف بھی نکالوں مِری مجال نہیں
نظر نہ آئی کسی کو مِری بیابانی
عیاں کسی پہ مِری تشنگی کا حال نہیں
تِرا غرور بھی رسوا ہوا سرِ بازار
تِری جفا کا بھی اچھّا کوئی مآل نہیں
تجھے پتا ہے کہ میں کتنا چاہتا ہوں تجھے
یہ اور بات کہ تجھ کو مِرا خیال نہیں
کمال یہ ہے کہ سب سے نظر ملا کے چلو
’’نظر بچا کے گزرنا کوئی کمال نہیں‘‘
ہے خود کشی کی طرح رسمِ زندگی راغبؔ
یہ لگ رہا ہے کہ جینا بھی اب حلال نہیں
نومبر۲۰۰۷ءطرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *