پڑ گیا چڑیوں کی

غزل
پڑ گیا چڑیوں کی بھی محفل میں فرق
ڈال دیتی ہیں ہوائیں دل میں فرق
راستہ بھی مختلف ہے سمت بھی
کیوں نہ واقع ہو بھلا منزل میں فرق
میرے آنے یا نہ آنے سے حضور
کیا پڑے گا آپ کی محفل میں فرق
کبر سے اور عاجزی سے ہے عیاں
فطرتِ آتش، سرشتِ گِل میں فرق
دوسروں کو پیسنا اچھّا نہیں
کچھ نہ کچھ پڑتا ہے بے شک سِل میں فرق
غور سے دیکھو بہ چشمِ دل کبھی
صاف ظاہر ہے حق و باطل میں فرق
چشم پوشی حال کے احوال سے
چاہتے ہو حالِ مستقبل میں فرق
کب ہوا گریہ سے راغبؔ غم غلط
مسکرانے سے پڑا مشکل میں فرق
جنوری ۲۰۱۳ء غیر طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *