بیان کرنے کی طاقت

غزل
بیان کرنے کی طاقت نہیں ہنر بھی نہیں
نہیں طویل یہ قصّہ تو مختصر بھی نہیں
ہمارے ہاتھوں وہ ہم کو تباہ کرتے ہیں
یہ اور بات کہ اس کی ہمیں خبر بھی نہیں
ہر اِک یقین کی بنیاد شک پہ رکھتا ہے
سو اعتماد اُسے اپنے آپ پر بھی نہیں
نہ جانے اب بھی وہ برسا رہے ہیں پتھّر کیوں
ہماری شاخ پہ اب تو کوئی ثمر بھی نہیں
فساد و فتنہ ہے جن کی سرشت میں راغبؔ
سکوں سے بیٹھنے والے وہ اپنے گھر بھی نہیں
مئی۲۰۱۳ء غیر طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *