بڑی مشکل ہَوا کے سامنے ہے
چراغِ دل ہَوا کے سامنے ہے
چراغوں کی طرح ہیں دوست میرے
ہر اِک ، باطل ہَوا کے سامنے ہے
ہَوا کا سامنا ہو کیوں نہ اُس کو
وہ روشن دل ہَوا کے سامنے ہے
جہاں چاہے وہاں بے خوف جائے
ہر اِک منزل ہَوا کے سامنے ہے
وہی بادِ مخالف میں ہے روشن
جو اِس قابل ، ہَوا کے سامنے ہے
ہَوا ہو کر رہے گا جسم راغبؔ
یہ مشتِ گِل ہَوا کے سامنے ہے
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ