اندھیرے میں چلا کر

غزل
اندھیرے میں چلا کر تیر یوں ہی
بیاں مت کیجیے تفسیر یوں ہی
اُنھیں بنیاد کی حاجت کہاں ہے
محل ہو جائے گا تعمیر یوں ہی
ہمیں معلوم ہے دُہرائیے مت
نہیں ہوتی کبھی تاخیر یوں ہی
جنوں کے ساتھ بے باکی کو میری
عطا کر دی گئی زنجیر یوں ہی
سبق سیکھو مِری تصویر سے کچھ
بدل دیں گے وہ ہر تصویر یوں ہی
مِرے خوابوں میں دل چسپی ہے کس کو
سناؤں کس کو میں تعبیر یوں ہی
کہاں کرتے ہیں وہ یوں ہی عنایت
چلاتے ہیں کہاں وہ تیر یوں ہی
کوئی یوں ہی خفا ہے مجھ سے راغبؔ
سو دل بھی ہے مِرا دل گیر یوں ہی
اپریل ۲۰۱۳ء غیر طرحی
شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: غزل درخت
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *