مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں

مروت تھی کچھ گِلے تھے کہیں
آرزوئوں کے سلسلے تھے کہیں

دوریاں درمیاں تھیں پہلے بھی
پر دلوں میں یہ فاصلے تھے کہیں

اِک بھلا نام یاد پڑتا ہے
تجھ سے پہلے بھی ہم ملے تھے کہیں

ایک جنگل عمارتوں کا تھا
اس میں کچھ پھول بھی کھلے تھے کبھی

افتخار نسیم

Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *